உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھیم پور کھیری تشدد: ضمانت ملی پھر بھی نہیں ہوئی آشیش مشرا کی رہائی، جانیں وجہ

    لکھیم پور کھیری تشدد: ضمانت ملی پھر بھی نہیں ہوئی آشیش مشرا کی رہائی

    لکھیم پور کھیری تشدد: ضمانت ملی پھر بھی نہیں ہوئی آشیش مشرا کی رہائی

    لکھیم پور کھیری تشدد معاملے (Lakhimpur Kheri Violence) میں ملزم اور مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا (Ashish Mishra) کو ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ سے ضمانت مل گئی ہے۔ حالانکہ، جیل سے رہائی میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: لکھیم پور کھیری تشدد معاملے (Lakhimpur Kheri Violence) میں ملزم اور مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا (Ashish Mishra) کو ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ سے ضمانت مل گئی ہے۔ حالانکہ، جیل سے رہائی میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔ جمعرات کو ضمانت ملنے کے بعد بھی آشیش مشرا کا جیل سے باہر آنا ابھی تھوڑا مشکل ہے۔ وہ اس لئے کیونکہ ضمانت کے حکم میں دفعہ 302 اور 120 بی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بیل آرڈر کو ترمیم کرنے کے لئے آشیش مشرا کے وکیلوں کو عرضی دینی پڑے گی۔ اس وجہ سے ان کی رہائی آئندہ ہفتے 14 فروری تک ہی ممکن ہے۔

      ہائی کورٹ کی طرف سے جاری بیل آرڈر میں آئی پی سی کی دفعہ کے علاوہ آرمس ایکٹ کی دفعہ 34 اور 30 کا ذکر ہے۔ اس میں دفعہ 302 اور 120بی مجرمانہ سازش رچنے سے متعلق ہوئی ہے۔ چونکہ بیل آرڈر میں 302 اور 120 بی کا ذکر نہیں ہے، اس لئے آشیش مشرا ابھی جیل سے باہر آنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ چونکہ ضمانت کے حکم میں غلطی سے قتل، مجرمانہ سازش کی دفعات نہیں ہیں، اس لئے حکم میں ترمیم کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ پیر کو اس عرضی پر سماعت ہوگی، لہٰذا 14 فوری سے پہلے جیل سے باہر آشیش مشرا نہیں آپائے گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ لکھیم پور تکونیا سانحہ کے ملزم آشیش مشرا کو جمعرات کو ہائی کورٹ لکھنو بینچ سے ضمانت مل گئی تھی۔ عدالت نے ذاتی بانڈ، دو ضمانتی خط دینے پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

      عدالت میں ملزم آشیش مشرا نے دی دلیل

      جسٹس راجیو سنگھ کی بینچ نے ضمانت کے لئے عدالت کی اجازت کے بغیر ریاست نہ چھوڑنے کی شرط بھی رکھی ہے۔ عدالت نے کہا، استغاثہ نے دلیلیں مان بھی لیں تو واضح ہے کہ جائے حادثہ پر ہزاروں مظاہرین تھے۔ ایسے میں ممکن ہے کہ ڈرائیور نے بچنے کے لئے گاڑی بھگائی اور یہ حادثہ ہوگیا۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ مظاہرین میں کئی لوگ تلواریں اور لاٹھیاں لائے تھے۔ بحث کے دوران کہا گیا کہ ایس آئی ٹی ایسا کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکی، جس سے ثابت ہو کہ گاڑی چڑھانے کے لئے اکسایا گیا۔ وہیں عدالت نے یہ بھی کہا کہ تھار جیپ میں بیٹھے ہوئے تین لوگوں کی بربریت کے ساتھ قتل کئے جانے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

      صحافی سمیت 8 لوگوں کی ہوئی تھی موت

      واضح رہے کہ تین اکتوبر کو ہوئے اس حادثہ میں چار کسانوں اور ایک مقامی صحافی سمیت 8 لوگوں کا قتل ہوا تھا۔ آشیش مشرا اور اس کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ وہ فائرنگ کرتے ہوئے کسانوں کو اپنی گاڑی سے روندتے ہوئے نکل گیا تھا۔ اس میں چار کی موت ہوگئی اور کئی شدید زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد 4 اکتوبر کو تکونیا تھانے میں آشیش مشرا سمیت کئی دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: