உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Mosque Case:مسلم پرسنل لا بورڈ کا بڑا اعلان، گیانواپی مسجد کے لئے لڑیں گے قانونی لڑائی

    Youtube Video

    Gyanvapi Mosque Case: بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئین اور قانون کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مذہب کے نام پر چھوٹی موٹی سیاست ملک کی بدقسمتی ہے۔ متھرا اور کاشی کے بعد یہ سلسلہ کہاں رکے گا، کوئی نہیں جانتا۔

    • Share this:
      لکھنو:Gyanvapi Mosque Case: مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا گیانواپی مسجد کے تحفظ کے لیے قانونی جنگ لڑے گا۔ بورڈ نے یہ فیصلہ ایک میٹنگ کے دوران کیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی سازش کے خلاف ملک بھر میں عبادت گاہ بچاؤ بیداری تحریک بھی چلائی جائے گی۔ بورڈ کے قومی صدر مولانا محمد یوسف عزیزی کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہوا۔

      ملاقات میں پلیس آف وار شپ ایکٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران کہا گیا کہ مسلم کمیونٹی پریشان اور بے چین ہے۔ مساجد، درگاہوں اور دیگر مقامات کی نوعیت اور کردار خطرے میں ہے، جسے ہم قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ جس طرح کاشی اور متھرا سمیت ملک بھر میں تقریباً 50 ہزار مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے آئین اور قانون کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Varanasi Gyanvapi case:گیان واپی معاملے میں مقدمے کے پائیداری کی سماعت آج

      بورڈ سپریم کورٹ سے اپیل کرے گا کہ عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے اور ان کے کردار اور فطرت کو تبدیل کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گیانواپی مسجد کی دیوار توڑ کر تحقیقات کا مطالبہ نہ صرف آئین کے منافی ہے بلکہ مسجد کو شہید کرنے کی بہت بڑی سازش ہے جسے عدالت کو مسترد کر دینا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      طلاقہ حسنہ کے خلافSCمیں درخواست، مسلم خاتون نے کیا غیرآئینی قرار دینے کا مطالبہ

      بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر معین احمد خان نے اجلاس کے بعد کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عبادت گاہ بچاؤ تحریک شروع کرکے کمیونٹی کو آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے قومی سطح پر تحریک چلائی جائے گی جس کا اعلان 2 جون کو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کی تیاری کے لیے بدامنی پیدا کرنا ملک دشمن سیاست ہے۔

      بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئین اور قانون کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مذہب کے نام پر چھوٹی موٹی سیاست ملک کی بدقسمتی ہے۔ متھرا اور کاشی کے بعد یہ سلسلہ کہاں رکے گا، کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم اس موضوع پر اپنی خاموشی توڑیں اور یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ آئین کے تحفظ کی یقین دہانی کرائیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: