உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknow IT Raid:اب رکاب گنج میں سوپاری کاروباری پر انکم ٹیکس کا شکنجہ، 34 گھنٹوں سے جاری ہے چھاپہ، جانیے اب تک کیا کیا ملا؟

    لکھنؤ آئی ٹی کا چھاپہ: رکاب گنج میں سپاری کے تاجر پر اب محکمہ انکم ٹیکس کا پیچ.

    لکھنؤ آئی ٹی کا چھاپہ: رکاب گنج میں سپاری کے تاجر پر اب محکمہ انکم ٹیکس کا پیچ.

    اگروال کے ٹھکانوں سے اب تک تقریباً تین کروڑ سے زیادہ کی رقم ضبط کی جاچکی ہے۔ آئی ٹی کی ٹیم نے گزشتہ ہفتہ کو یہاں رکاب گنج کے روکمنی دھرم شالہ کے پاس رہنے والے اگروال کے گھر اور دکان پر چھاپہ ماری شروع کی تھی، جو اب تک جاری ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: کانپور اور قنوج کے مشہور کاروباری پیوش جین پر شکنجہ کسنے کے بعد محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے اب پرانے لکھنو کے ایک بڑے سوپاری بیوپاری کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری جاری ہے۔ یہاں رکاب گنج علاقے میں نریندر اگروال کے گھر پر ہفتہ دیر رات سے انکم ٹیکس کی ٹیم موجود ہے۔ اگروال علاقے کے ایک بڑے سوپاری بزنس مین بتائے جاتے ہیں حالانکہ ذرائع کے مطابق، ان کے حوالہ کاروبار سے جڑنے کا شک ہے۔

      ملی جانکاری کے مطابق، اگروال کے ٹھکانوں سے اب تک تقریباً تین کروڑ سے زیادہ کی رقم ضبط کی جاچکی ہے۔ آئی ٹی کی ٹیم نے گزشتہ ہفتہ کو یہاں رکاب گنج کے روکمنی دھرم شالہ کے پاس رہنے والے اگروال کے گھر اور دکان پر چھاپہ ماری شروع کی تھی، جو اب تک جاری ہے۔ انکم ٹیکس کے تقریباً دو درجن سے زیادہ عہدیدار اس معاملے کی جانچ پڑتال کررہے ہیں اور اگروال کے گھر کے باہر اب بھی پولیس فورس موجود ہے۔ جانچ میں ٹیکس چوری کے تمام دستاویز برآمد ہونے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

      بتادیں کہ انکم ٹیکس افسروں کی ٹیم نے 21 جنوری کو گونڈا میں ریڈ کرکے 65 لاکھ روپے کا کیش برآمد کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، وہیں سے پوچھ تاچھ میں نریندر اگروال کا نام سامنے آیا۔ پکڑے گئے لوگوں سے پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ یہ رقم لکھنو سے لائی گئی ہے۔

      اس کے بعد انکم ٹیکس افسروں نے رکاب گنج واقع اگروال کے ٹھکانوں پر ریڈ کی جس میں بھاری مقدار میں کیش برآمد کیا۔ اتنی زیادہ نقدی ملنے کے بارے میں عہدیداروں نے اس سے اس کا ذریعہ پوچھا، جس کا ثبوت یہ صحیح و مناسب جانکاری وہ نہیں دے پائے، جس کے بعد یہ رقم ضبط کرلی گئی اور آگے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: