உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایس پی آرایل ڈی اتحاد پر ہنگامہ: جینت چودھری پر ٹکٹ بیچنےکا الزام لگاتے ہوئے RLD ریاستی صدر مسعود احمد نے پھوڑا لیٹر بم

    ایس پی آرایل ڈی اتحاد پر آر ایل ڈی کے ریاستی صر مسعود احمد نے بڑا الزام عائد کیا ہے۔

    ایس پی آرایل ڈی اتحاد پر آر ایل ڈی کے ریاستی صر مسعود احمد نے بڑا الزام عائد کیا ہے۔

    اسمبلی انتخابات میں ملی شکست کے بعد سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اور راشٹریہ لوک دل (RLD) اتحاد کے درمیان الزام تراشی کا دور بھی شروع ہوگیا ہے۔ آر ایل ڈی صدر جینت چودھری (Jayant Chaudhary) نے جیسے ہی ریاست کے سبھی فرنٹل تنظیموں کو تحلیل کیا پارٹی کے اندر اختلافات نمایاں ہونے لگے۔ آرایل ڈی کے یوپی صدر مسعود احمد (RLD UP CHief Masood Ahmad) نے 7 صفحات پر مشتمل خط لکھ کر کئی سنسنی خیز الزامات عائد کئے ہیں۔

    • Share this:
      لکھنو: اسمبلی انتخابات میں ملی شکست کے بعد سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اور راشٹریہ لوک دل (RLD) اتحاد کے درمیان الزام تراشی کا دور بھی شروع ہوگیا ہے۔ آر ایل ڈی صدر جینت چودھری (Jayant Chaudhary) نے جیسے ہی ریاست کے سبھی فرنٹل تنظیموں کو تحلیل کیا پارٹی کے اندر اختلافات نمایاں ہونے لگے۔ آرایل ڈی کے یوپی صدر مسعود احمد (RLD UP CHief Masood Ahmad) نے 7 صفحات پر مشتمل خط لکھ کر کئی سنسنی خیز الزامات عائد کئے ہیں۔ مسعود احمد کا الزام ہے کہ جینت چودھری اور اکھلیش یادو نے پیسے لے کر ٹکٹ تقسیم کئے۔ مسعود احمد کا کہنا ہے کہ ہاپوڑ کی سیٹ 8 کروڑ روپئے میں بیچی گئی تھی۔

      اپنے خط میں مسعود احمد نے مسلمانوں اور دلتوں کو درکنار کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کے لیڈروں نے مسلمانوں اور دلتوں کو نظرانداز کیا۔ اتنا ہی نہیں چندر شیکھر آزاد کو ساتھ نہ لینا بھی ایک بڑی بھول تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور دلتوں کے موضوعات کو پارٹی لیڈروں کے ذریعہ الیکشن میں نہیں اٹھایا گیا۔ آرایل ڈی کے ریاستی صدر نے لیٹر میں کہا ہے کہ عمران مسعود جیسے لیڈروں کو بے عزت کرکے اکھلیش یادو اپنی شبیہ مسلمانوں میں خراب کر رہے ہیں۔ مسلمان اور دیگر طبقات کب تک مجبوری میں ہمیں ووٹ دے گا۔ عوام کے درمیان رہنا ہی ملائم سنگھ کی کنجی رہی ہے، صرف الیکشن کے وقت نکلنا بھی عوام کو ناگوار گزرا ہے۔

      مسعود احمد نے مسلمانوں اور دلتوں کو درکنار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے لیڈروں نے مسلمانوں اور دلتوں کو نظر انداز کیا۔
      مسعود احمد نے مسلمانوں اور دلتوں کو درکنار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے لیڈروں نے مسلمانوں اور دلتوں کو نظر انداز کیا۔


      ٹکٹ بیچنے کا الزام

      مسعود احمد نے خط میں لکھا ہے کہ الیکشن شروع ہوتے ہی باہری لوگوں کو ٹکٹ دیا جانے لگا۔ پارٹی کے امیدواروں سے دہلی دفتر میں بیٹھے لوگ کروڑوں روپئے کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ جینت چودھری کو اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی اسے پارٹی مفاد میں بتایا۔ مسعود احمد لکھتے ہیں، ’دن میں دو بجے پارٹی میں آئے گجراج سنگھ کو اسی دن 4 بجے ہاپوڑ سیٹ سے ٹکٹ دے دیا گیا، جس سے پارٹی کارکنان کا حوصلہ پست ہوگیا۔ ہاپوڑ اسمبلی حلقہ میں 8 کروڑ روپئے لے کر ٹکٹ فروخت کئے جانے کی بات سے پارٹی کارکنان میں ناراضگی پیدا ہوئی، جس کی اطلاع میں نے آپ کو دی تھی‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      چندرا بابو نائیڈو نے خریدا تھا جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس؟ YSR کانگریس نے کیا جانچ کا مطالبہ

      اکھلیش یادو کے سامنے کمزور پڑنے کا پیغام گیا

      مسعود احمد نے مزید لکھا، ‘ماٹھ پر ہم نے بھی امیدوار اتارا، لیکن سنجے لاٹھر نے آپ سے ملاقات کی اور فوراً آپ نے ماٹھ پر دعویداری واپس لے لی۔ اس سے جاٹ بھائیوں میں یہ پیغام گیا کہ آپ اکھلیش یادو کے سامنے کمزور پڑ رہے ہیں اور سرینڈر کر رہے ہیں۔ اپنی آبائی سیٹ بیچ دیئے جانے پر جاٹ ووٹ اسی وقت آدھا ہوگیا۔ میرے ذریعہ آپ کو مسلسل یہ بتایا گیا کہ جاٹ قوم انتہائی حساس ہے اور ان میں یہ پیغام جا رہا ہے کہ اکھلیش یادو آپ کو اور پارٹی کو بے عزت کر رہے ہیں۔ تاہم دولت جمع کرنے کے آگے پارٹی بیچ دی گئی اور نتیجہ یہ ہے کہ جاٹ ووٹ ناراض ہوکر2/3 سے زیادہ بی جے پی میں چلے گئے۔

      21 مارچ تک مانگا جواب

      مسعود احمد نے آرایل ڈی چیف جینت چودھری اور اکھلیش یادو سے اپنے اس خط کا 21 مارچ تک جواب طلب کیا ہے۔ انہوں نے لیٹر میں کہا ہے کہ اگر ان سوالوں کے جواب نہین دیئے جاتے ہیں تو اسے ان کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ سمجھا جائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: