உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Election: بی جے پی ایم ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک نے جوائن کی سماجوادی پارٹی، اکھلیش یادو نے اسٹیج سے کیا اعلان

    بی جے پی ایم ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک نے جوائن کی سماجوادی پارٹی

    بی جے پی ایم ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک نے جوائن کی سماجوادی پارٹی

    یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران اعظم گڑھ ریلی میں سماجوادی پارٹی اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک جوشی (Mayank Joshi) نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔

    • Share this:
      اعظم گڑھ: یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران اعظم گڑھ ریلی میں سماجوادی پارٹی اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک جوشی (Mayank Joshi) نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کہا کہ ان کے آنے سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔

      وہیں، اکھلیش یادو نے کہا کہ یوپی میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بننے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ ساتھ ہی اسٹیج پر موجود مینک جوشی کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک جوشی بھی سماجوادی پارٹی میں آگئے ہیں۔ میں ان کا والہانہ استقبال کرتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کے (مینک جوشی) کے آنے سے پارٹی کے لیڈروں کا حوصلہ بڑھے گا۔



      واضح رہے کہ کچھ وقت پہلے پریاگ راج کی بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی کے بیٹے مینک جوشی نے اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی، جس کی تصویر خود سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے شیئر کی تھی۔ اس کے بعد قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ مینک جوشی سماجوادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔

      مینک جوشی نے  کچھ دن پہلے اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی۔
      مینک جوشی نے کچھ دن پہلے اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی۔


      اکھلیش یادو نے ریتا بہوگنا جوشی سے متعلق کہی تھی یہ بات

      گزشتہ دنوں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی کے سماجوادی پارٹی میں آنے کے سوال پر اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ ان کے (بی جے پی ایم پی) سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے پر ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ان کے بیٹے کی ہمارے ساتھ ملاقات ہوئی ہے۔ اس وقت سماجوادی پارٹی کی کوشش اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے کا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: