ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنؤ میں مظاہرین کےہورڈنگ لگانے کامعاملہ:سپریم کورٹ کی بڑی بنچ آئندہ ہفتے کرے گی سماعت

عدالت نے اس معاملہ کو سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کو بھیجنے کا فیصلہ سنایاہے۔ کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف انڈیا سے سفارش کی جائیگی کہ ایک تین رکنی بنچ مقرر کرکے آئندہ ہفتہ میں سماعت کروائیں۔

  • Share this:
لکھنؤ میں مظاہرین کےہورڈنگ لگانے کامعاملہ:سپریم کورٹ کی بڑی بنچ آئندہ ہفتے  کرے گی سماعت
لکھنؤ میں مظاہرین کی ہورڈنگ لگانے کا معاملہ:سپریم کورٹ کی بڑی بنچ آئندہ ہفتے کرے گی سماعت

لکھنؤ میں مظاہرین کی ہورڈنگ لگانے کا معاملہ اترپردیش حکومت کے لیے درد سر بنتا جارہاہے۔ آلہٰ آباد ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ نے بھی اترپردیش حکومت کی سرزنش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کی عرضداشت پرسماعت کے دوران سوال کیاہے کہ عام آدمی کی تصاویر لگانے کی منشا کیاہے؟۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک میں حکومت قانون کے مطابق چلنے کی باپند ہے۔ عدالت نے کہا کہ یوپی حکومت کی کارروائی قانوناً صحیح نہیں ہے۔جسٹس للت نے اس معاملے کو سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلے کی روشنی میں آئندہ ہفتے میں تین ججوں کے بنچ کے پاس بھیجنے پر غور کرنے کا اشارہ دیا۔وہیں جسٹس انیرودھ بوس نے کہا کہ ہم نے معاملے سنگینی کو دیکھتے ہوئے آپ کی سفارش کو قبول کرلیاہے اور ہم معاملہ کو حل کرنے کے لیے اسے تین ججوں والی بنچ کو بھیجیں گے۔اس معاملے کو چیف جسٹس کے ذریعہ نامزد کردہ تین ججوں کے بینچ کو بھیجنا ہوگا۔ جس کے بعد عدالت نے اس معاملہ کو سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کو بھیجنے کا فیصلہ سنایاہے۔ کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف انڈیا سے سفارش کی جائیگی کہ ایک تین رکنی بنچ مقرر کرکے آئندہ ہفتہ میں سماعت کروائیں۔


خیال رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کی سرزنش کی تھی۔ حکومت نے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں املاک کو ہوئے نقصان کی بازیابی کے لیے مبینہ ملزمین کی تصویروں کی ہورنگ لگائی تھی۔جس پر ان کا نام اور پتہ بھی لکھا ہے۔


واضح ہے کہ ضلع انتظامیہ نے5مارچ کی رات کو 57 افراد کے نام، پتہ اور تصاویر والے ہورڈنگ لگادیے۔ توڑ پھوڑ والے علاقوں میں یہ کاروائی کی گئی تھی۔ ہورڈنگس میں ہے کہ حسن گنج، حضرت گنج، قیصرباغ اور ٹھاکر گنج کے علاقوں میں 57 افراد سے 88 لاکھ 62ہزار 537 روپیے کی وصولی کی جانی ہے۔ لکھنؤ کے ڈی ایم ابھیشیک پرکاش نے کہا تھا کہ اگر طے وقت پر ان افراد نے جرمانہ نہیں بھرا تو ان کی جائیداد قرق کر لی جائے گی۔جن افراد کے نام ہورڈنگ لگائے گئے ان میں آئی پی ایس ایس آر داراپوری، سماجی کارکن اور اداکار صدف جعفری اور آرٹسٹ دیپک کبیر شامل ہیں۔ کبیر نے کہا تھا کہ حکومت ڈر کا ماحول بنارہی ہے۔ ہورڈنگ میں شامل افراد کی ماب لنچنگ ہو سکتی ہے۔ دہلی تشدد کے بعد ماحول محفوظ نہیں رہا ۔ سرکار ہر کسی کو خطرے میں ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔


یادرہے کہ پیر کے دن لکھنؤ کی سڑکوں پر مظاہرین کے پوسٹرس لگانے پر آلہٰ آباد ہائی کورٹ نے یوگی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے اور جلدازجلد پوسٹر کو ہٹانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے لکھنؤ کے ڈی ایم اور پولیس کمشنر کو بغیر کسی تاخیر کے پوسٹروں اور بینرز کو ہٹانے کا حکم دیاتھا۔ عدالت نے مظاہرین کے پوسٹر لگانے کی کارروائی کو غیر ضروری اور رازداری کے حق کی خلاف ورزی قرار دیاہے۔

اترپردیش حکومت کو آلہٰ آباد ہائی کورٹ سے مایوسی

آلہٰ آباد ہائی کور ٹ نے ریاستی حکومت کو سخت ہدایات دی کہ کسی بھی ملزم سے متعلق کسی بھی نجی معلومات کو ہرگز منظرعام پر نہیں لایا جانا چاہئے۔ کسی بھی ملزم کا نام ، پتہ اور فون نمبر جیسی معلومات کو عام نہیں کیا جانا چاہئے ، جس سےان کی شناخت ظاہر ہوسکے۔ ہائیکورٹ نے ڈی ایم اور کمشنر پولیس کو 16 مارچ تک رجسٹرار جنرل کے سامنے تعمیل رپورٹ داخل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس رمیش سنہا کے خصوصی بنچ نے کھلی عدالت میں فیصلہ سنانے کے بعد اترپردیش حکومت کی درخواست خارج کردی۔
First published: Mar 12, 2020 12:26 PM IST