உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Polls 2022: دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آج، 55 سیٹوں پر 78 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں قسمت، جانیں سیاسی حالات

    دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آج، 55 سیٹوں پر 78 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں قسمت، جانیں سیاسی حالات

    دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آج، 55 سیٹوں پر 78 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں قسمت، جانیں سیاسی حالات

    یوپی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلمانوں کے ساتھ سینی، دلت اور جاٹ ووٹ ہار جیت طے کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ وہیں اس مرحلے میں سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) نے 18، بی ایس پی نے 23، کانگریس نے 21 اور اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی پارٹی مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 15 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ بی جے پی کی اتحادی جماعت اپنا دل (ایس) نے بھی رامپور کی سوار ٹانڈہ سیٹ کے نواب کاظم علی خان کے بیٹے حیدر علی خان کو امیدوار بنایا ہے، جوکہ 2014 کے بعد بھگوا خیمے کے پہلے مسلم امیدوار ہیں۔

    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش اسمبلی انتخابات (UP Assembly Election 2022) کے دوسرے مرحلے کے لئے آج یعنی پیر کے روز صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ووٹنگ (Second Phase Voting On Feb 14) ہوگی۔ اس مرحلے میں 9 اضلاع کی 55 سیٹوں پر بی جے پی، کانگریس، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اتحاد کے درمیان ’بڑا مقابلہ‘ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دوران امروہہ، بریلی، بجنور، بدایوں، مرادآباد، رامپور، سہارنپور، سنبھل اور شاہجہاں پور میں ووٹنگ ہونی ہے۔

      واضح رہے کہ دوسرے مرحلے میں ہونے والے 55 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں 38 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ سماجوادی پارٹی کو 15 سیٹں اور کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کرکے قسمت آزمائی کی تھی۔ سماجوادی پارٹی کی جیتی ہوئی 15 سیٹوں میں 10 سیٹوں پر مسلم امیدوار فاتح ہوئے تھے۔

      یوپی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 55 سیٹوں پر 78 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں۔
      یوپی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 55 سیٹوں پر 78 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں۔


      جانیں اس بار کس پارٹی نے اتارے کتنے مسلم امیدوار

      یوپی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلمانوں کے ساتھ سینی، دلت اور جاٹ ووٹ ہار جیت طے کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ وہیں اس مرحلے میں سماجوادی پارٹی نے 18، بی ایس پی نے 23، کانگریس نے 21 اور اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی پارٹی مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 15 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ بی جے پی کی اتحادی جماعت اپنا دل (ایس) نے بھی رامپور کی سوار ٹانڈہ سیٹ کے نواب کاظم علی خان کے بیٹے حیدر علی خان کو امیدوار بنایا ہے، جوکہ 2014 کے بعد بھگوا خیمے کے پہلے مسلم امیدوار ہیں۔ یہی نہیں، اس بار بھی گزشتہ اسمبلی انتخابات کی طرح کئی سیٹوں پر مسلم امیدواروں کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ حالانکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کو اس مرحلے میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی، لیکن 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اس نے اس حلقے کی چار سیٹیں جیتی تھیں اور اس سے واضح ہے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کو گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں تین سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں سماجوادی پارٹی کو گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں تین سیٹ ملی تھیں، سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے اتحاد میں قسمت آزمائی کی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: