ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بڑی خبر: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو پولیس نے حراست میں لیا، سابق وزیر اعلیٰ نےکہا- حکومت کسانوں کی آواز نہیں دبا سکتی

کسان آندولن (Kisan Andolan) کی حمایت میں پیر کو قنوج میں ہونے والی کسان یاترا (Kisan Yatra) سے پہلے ہی پولیس نے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو پیر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے دفعہ-144 کی خلاف ورزی کے معاملے میں اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) پر کارروائی کی ہے۔ فی الحال پولیس سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) کے سربراہ اکھلیش یادو کو حراست میں لے کر ایکو گارڈن لے کرگئی ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو پولیس نے حراست میں لیا، سابق وزیر اعلیٰ نےکہا- حکومت کسانوں کی آواز نہیں دبا سکتی
اکھلیش یادو کو پولیس نے حراست میں لیا، سابق وزیر اعلیٰ نےکہا- حکومت کسانوں کی آواز نہیں دبا سکتی

لکھنؤ: کسان آندولن (Kisan Andolan) کی حمایت میں پیر کو قنوج میں ہونے والی کسان یاترا (Kisan Yatra) سے پہلے ہی پولیس نے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو پیر کو  حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے دفعہ-144 کی خلاف ورزی کے معاملے میں اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) پر کارروائی کی ہے۔ فی الحال پولیس سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) کے سربراہ اکھلیش یادو کو حراست میں لے کر ایکو گارڈن لے کرگئی ہے۔ اس سے پہلے ان کو ان کے رہائش گاہ پر نظر بند (House Arrest) کردیا گیا تھا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے الزام لگایا ہے کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی آواز کو بی جے پی حکومت دبا نہیں سکتی اور ان کی پارٹی کالے قانون کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ کسانوں کی حمایت میں ٖڈٹی رہے گی۔


ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی زرعی قوانین کو واپس لینے کے کسان تنظیموں کی مطالبے کی حمایت کرتی ہے اور اس کے لئے پیر کو ریاست میں کسان یاترا نکالی جائے گی۔ انہوں نے خود پیر کو قنوج میں منعقد کسان یاترا میں شرکت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایس پی سربراہ کے اعلان کے بعد مستعد ضلع انتظامیہ نے کووڈ پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے ایس پی دفتر اور اکھلیش کی رہائش گاہ کے باہر بیریکیٹنگ کرکے پولیس ٹیم کو تعینات کردیا تھا۔ دن بڑھنے کے ساتھ ایس پی کارکنوں اور لیڈروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ کچھ لیڈروں نے ایس پی سربراہ کے رہائش گاہ جانے کی کوشش کی جنہیں پولیس نے روک دیا۔ ادھر ایس پی کے صدر کی گاڑی اور سیکورٹ کو بھی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔اس کے بعد ایس پی سربراہ خود سڑک پر آگئے اور بندریا باغ میں سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔


اکھلیش یادو نے الزام لگایا ہے کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی آواز کو بی جے پی حکومت دبا نہیں سکتی اور ان کی پارٹی کالے قانون کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ کسانوں کی حمایت میں ٖڈٹی رہے گی۔ فائل فوٹو
اکھلیش یادو نے الزام لگایا ہے کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی آواز کو بی جے پی حکومت دبا نہیں سکتی اور ان کی پارٹی کالے قانون کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ کسانوں کی حمایت میں ٖڈٹی رہے گی۔ فائل فوٹو


انہوں نے کہا کہ پولیس چاہے تو انہیں گرفتار کرسکتی ہے۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ بی جے پی جلوس نکالے تو کووڈ پروٹوکولی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے اور اگر کسانوں تحریک چلاتا ہے تو تمام قوانین کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کئی کارکنوں اور لیڈروں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے لیکن پارٹی کسانوں کی زمین اور فصل کو ہڑپنے والے کالے قانون کی واپسی تک کسانوں کے ساتھ جدوجہد کرتی رہے گی۔چاہے اس کے لئے انہیں کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑی۔ اس درمیان لکھنؤ اور قنوج کے علاوہ ریاست کے کچھ دیگر مقامات پر بھی ایس پی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ہے۔ لکھنؤ میں الگ الگ مقامات پر ایس پی کارکنوں پر پولیس نے معمول طاقت کا استعمال کر تے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔


نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 07, 2020 04:17 PM IST