உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی الیکشن میں ایک نہیں، بلکہ 4-4 اکھلیش یادو آزما رہے ہیں قسمت، جانیں کون کہاں سے میدان میں

    اکھلیش یادو کے نام کے چار امیدوار اس بار یوپی الیکشن میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

    اکھلیش یادو کے نام کے چار امیدوار اس بار یوپی الیکشن میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

    اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو نام کے چار امیدواوں میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ سمتی دو امیدوار سماجوادی پارٹی کے ہیں جبکہ ایک کانگریس اور ایک آزاد امیدوار کے طور پر اپنی طاقت آزما رہے ہیں۔

    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش اسمبلی (UP Chunav) کی انتخابی جنگ میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) سمیت اس نام کے چار ’امیدوار‘ میدان میں ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو نام کے چار امیدواوں میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ سمتی دو امیدوار سماجوادی پارٹی کے ہیں جبکہ ایک کانگریس اور ایک آزاد امیدوار کے طور پر اپنی طاقت آزما رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے انتخابی حلقہ مین پوری ضلع کے کرہل میں ووٹنگ ہوچکی ہے اور رائے دہندگان نے ان کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں ’بند‘ کردی ہے۔

      اکھلیش یادو نام کے دوسرے امیدوار اعظم گڑھ ضلع کی مبارکپور سیٹ سے ہیں۔ اس کے علاوہ ایودھیا ضلع کی بیکا پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس امیدوار کا بھی نام اکھلیش یادو ہے۔ سنبھل کے گنور اسمبلی حلقہ میں ایک آزاد امیدوار بھی اکھلیش ہیں۔ رابطہ کرنے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ کے تینوں ہم ناموں نے ‘پی ٹی آئی- بھاشا‘ کو بتایا کہ اس کے لئے یہ نام ہونا ایک فائدہ ہے۔

      سات فروری کو سماجوادی پارٹی نے مبارکپور اسمبلی حلقہ سے امیدوار اکھلیش یادو کا اعلان کیا تو کچھ لوگوں کو لگا کہ پارٹی صدر اکھلیش یادو دو سیٹوں پر اسمبلی الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ چونکہ اس کے پہلے ہی سماجوادی پارٹی کے سربراہ کے مین پوری کے کرہل سے الیکشن لڑنے کا اعلان ہوچکا تھا اور اعظم گڑھ ان کا پارلیمانی حلقہ ہے تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ ممکنہ طور پر وہ دو سیٹوں سے الیکشن لڑیں گے۔ تاہم پارٹی لیڈروں نے صورتحال واضح کردیا اور بتایا کہ مبارکپور سے اعلان شدہ امیدوار اکھلیش یادو 2017 میں بھی اسمبلی الیکشن لڑچکے ہیں اور انہیں بی ایس پی کے شاہ عالم سے صرف 688 ووٹوں سے شکست ملی تھی۔

      مبارکپور سے سماجوادی پارٹی سے امیدوار اکھلیش یادو نے ‘پی ٹی آئی- بھاشا‘ سے کہا، ’مجھے اپنے انتخابی حلقہ، کے لوگوں کی اچھی حمایت مل رہی ہے، لوگ میرے تئیں ہمدردی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ میں اس سیٹ سے 2017 کا اسمبلی الیکشن بہت ہی معمولی فرق سے ہار گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سبھی لوگ چاہتے ہیں کہ اکھلیش یادو الیکشن جیتے۔ یہاں کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ اکھلیش یادو (سماجوادی پارٹی کے سربراہ) ہیں اور وہ یوپی کا وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں، اس لئے مبارکپور سے رکن اسمبلی بھی اکھلیش یادو کو ہونا چاہئے‘۔ مبارکپور سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی قسمت کا فیصلہ ساتویں اور آخری مرحلے میں سات مارچ کو ہوگا۔ مبارکپور سے سماجوادی پارٹی کے امیدودار نے کہا کہ ان کے والد نے ان کا نام اکھلیش یادو رکھا ہے کیونکہ تین بھائیوں کا نام ’عیش‘ کے ساتھ ختم ہوا۔ اودھیش یادو، امیش یادو اور امریش یادو۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: