ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

UP Religious Conversion: عمر گوتم کی بیٹی آئی سامنے، والد کو بتایا شریف اور بے قصور

نیوز 18 سے ایکسکلوزیو بات چیت میں عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ ان کے والد پوری طرح بے قصور ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کی ڈاکیومینٹیشن میں مدد کرتے تھے، جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتے تھے۔

  • Share this:
UP Religious Conversion: عمر گوتم کی بیٹی آئی سامنے، والد کو بتایا شریف اور بے قصور
عمر گوتم کی بیٹی آئی سامنے، والد کو بتایا شریف اور بے قصور

لکھنو/دہلی: تبدیلی مذہب معاملے (Forceful Conversion) میں اہم ملزم بنائے گئے عمر گوتم (Umar Gautam) کی بیٹی نے سامنے آکر وضاحت پیش کی ہے۔ نیوز 18 سے ایکسکلوزیو بات چیت میں عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ ان کے والد پوری طرح بے قصور ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کی ڈاکیومینٹیشن میں مدد کرتے تھے، جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے مانا کہ ترغریب دینی والی تقریر ان کے والد ضرور دیتے تھے، لیکن کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں کی گئی۔ جہاں تک غیر ملکی فنڈنگ کی بات ہے تو کچھ قریبی رشتہ دار زکوۃ کا پیسہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے دیتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ نوئیڈا کے بہرے لوگوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف مترجم ان کو لے کر آئے تھے۔ ڈاکیومنٹیشن ایفیڈیویٹ کے لئے مدد چاہتے تھے۔ میرے والد نے کبھی ان کو کال نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان کے رابطے میں تھے۔


عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ پاکستان سے ان کے والد کو جوڑنا پورے طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کا کوئی کنکشن نہیں ہے۔ میرے والد پوری طرح سے ایماندار ہیں۔ میرے والد لوگوں کو بتاتے تھے کہ مذہب اسلام اچھا مذہب ہے۔ لوگوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرتے تھے۔ انہوں ںے کبھی نہیں کہا کہ ہندو مذہب غلط ہے۔ جو لوگ بھی میرے والد سے رابطہ کرتے تھے، ان میں زیادہ تر لوگ شادی کے لئے آتے تھے۔ ان کے ڈاکیومنٹ بنتے تھے، وہ صرف مدد کرتے تھے۔ جہاں تک زبردستی تبدیلی مذہب کی بات ہے تو کبھی میرے والد نے میری ماں کو مذہب تبدیل کرنے کے لئے نہیں کہا۔ میری ماں نے خود اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کیا۔ یہاں تک کہ مجھے نہیں کہا کہ برقع پہنو۔ میرے بھائی کو نہیں کہا کہ داڑھی رکھو۔ میرے والد نے ہم سب کو انسانیت کے لئے ترغیب دی ہے۔


لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا


عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ میرے گھر پر میرے چچا میرے اور کزن بھائی آتے ہیں، لیکن کبھی انہیں مذہب اسلام اپنانے کے لئے نہیں کہا۔ میرے والد نے ہمیشہ انسانیت اور کیریئر کے بارے میں بات کی ہے۔ مفتی جہانگیر اور دوسرے لوگ مذہب تبدیل کرنے کے لئے آنے والے لوگوں کو اسسٹ کرتے تھے، میں سو سے زیادہ ایسے لوگوں کے نام بتا سکتی ہوں، جو کہیں گے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔

باعزت بری ہوں گے میرے والد

عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میرے والد کو غنڈوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان کو صرف پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا تھا۔ ہم نے کہا تھا کہ آپ کا وپل اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کوئی کنکشن نہیں ہے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے یہ بھی کہا کہ مجھے مکمل یقین ہے کہ عدالت میرے والد کے حق میں فیصلہ سنائے گی اور وہ باعزت بری ہوجائیں گے۔ میں ان کی بیٹی ہونے کے ناطے نہیں بول رہی ہوں، بلکہ دوسرے لوگ بھی یہی کہیں گے کہ وہ ایک شریف انسان ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 24, 2021 11:05 AM IST