ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

UP New Population Policy: وزیر اعلیٰ یوگی نے کیا نئی آبادی پالیسی کا اعلان، کہا- ترقی میں رکاوٹ ہے بڑھتی آبادی

اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) نے اتوار کو اترپردیش (Uttar Pradesh) کی نئی آبادی پالیسی (New Population Policy) کے مسودے کو لانچ کردیا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

  • Share this:
UP New Population Policy: وزیر اعلیٰ یوگی نے کیا نئی آبادی پالیسی کا اعلان، کہا- ترقی میں رکاوٹ ہے بڑھتی آبادی
وزیر اعلیٰ یوگی نے کیا نئی آبادی پالیسی کا اعلان، کہا- ترقی میں رکاوٹ ہے بڑھتی آبادی

لکھنو: اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) نے اتوار کو اترپردیش (Uttar Pradesh) کی نئی آبادی پالیسی (New Population Policy) کے مسودے کو لانچ کردیا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت جو نئی آبادی پالیسی لے کر آئی ہے، اس سے معاشرے کے ہر طبقے کو جڑنا ہوگا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آبادی کنٹرول کے لئے بیداری ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو آبادی پالیسی حکومت لے کر آئی ہے، اس سے معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔


وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی کنٹرول پر گزشتہ چار دہائیوں سے بحث ہو رہی تھی۔ ملک کی غریبی کی ایک اہم وجہ آبادی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی آبادی پالیسی حکومت لے کر آئی ہے، اس میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دو بچوں کے درمیان فرق بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو بچوں کی پیدائش میں فرق نہ ہونے کی وجہ سغذائی قلت کا خطرہ بھی بنا رہتا ہے۔


یوگی حکومت نے نئی آبادی پالیسی کا جو مسودہ تیار کیا ہے، اگر یہ نافذ ہوجاتا ہے تو یہ مجوزہ قانون گزٹ شائع ہونے کے ایک سال بعد نافذ ہوجائے گا۔ یعنی 2022 سے ریاست میں 2030 تک کے لئے نئی آبادی پالیسی نافذ رہے گی۔ حکومت کے ذریعہ تیار کئے گئے مسودے میں آبادی کنٹرول میں مدد کرنے والوں کو اعزاز سے سرفراز کرنے کا التزام ہے، ساتھ ہی اسے نہ ماننے والوں کے لئے کئی سہولیات سے محروم کرنے کا بھی التزام ہے۔


مجوزہ قانون کی خاص باتیں



موجودہ ڈرافت میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی قانون کے نافذ ہونے کے بعد دو بچے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اسے حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی سبھی فلاحی اسکیموں کے فائدے سے محروم کردیا جائے گا، وہ مقامی بلدیہ کے لئے الیکشن نہیں لڑسکتا، ریاستی حکومت کے تحت سرکاری نوکریوں کے لئے درخواست دینے کا اہل نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کو سرکاری نوکری میں پرموشن بھی نہیں ملے گا۔ ڈرافٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا راشن کارڈ چار اراکین تک محدود رہے گا اور وہ کسی بھی طرح کی سرکاری سبسڈی بھی نہیں لے سکے گا۔


Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 11, 2021 02:54 PM IST