یوپی میں ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات :پولیس کی مبینہ لا پرواہی کا الزام

یوپی کے وزیراعلیٰ اور اُن کے وزراء ریاست میں قانون کا راج بتاتے ہیں لیکن یہاں تو ہجومی تشدد کی جیسے باڑھ آگئی ہے۔

Jul 09, 2019 01:16 PM IST | Updated on: Jul 09, 2019 01:16 PM IST
یوپی میں ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات :پولیس کی مبینہ لا پرواہی کا الزام

یوپی میں ہجومی تشدد کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ شرپسند عناصر کو قانون کا کوئی ڈر نہیں ہے ۔ اور کچھ واقعات ایسے بھی پیش آئے جہاں پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور غنڈے قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ یوپی کے وزیراعلیٰ اور اُن کے وزراء ریاست میں قانون کا راج بتاتے ہیں لیکن یہاں تو ہجومی تشدد کی جیسے باڑھ آگئی ہے۔واقعہ مہاراج گنج کا ہے ،جہاں ہائی اسکول میں ایک طالب علم کو رسّی سے باندھ کر پیٹا گیا پولیس کے مطابق لڑکی سے چھڑ چھاڑ کرنے کی شکایت کے بعد لڑکی کے رشتہ داروں نے اس لڑکے کی پٹائی کی۔متاثرہ کے دوستوں کے مطابق ایک بندکمرے میں لڑکے کو راڈ سے بھی پیٹا گیا۔

وہیں،جونپور ضلع میں ایک مرتبہ پھر لائیو پٹائی کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔دو الگ الگ واقعات ہیں۔۔ان میں سے پہلا ظفرآباد تھانہ کے دھنیجا گاؤں کا ہے جہاں پڑوسی نے ایک خاتون کو لاٹھی سے سے پیٹ کر زخمی کردیا۔وہیں دوسرے واقعے میں گاؤں والوں نے چوروں کے کپڑے اتار کراُن کی بے رحمی سے پٹائی کردی۔

Loading...

کانپور میں بھی ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص کو خاتون سے چھیڑ چھاڑ بھاری پڑ گئی۔خاتون نے اس لڑکے کی سرعام پٹائی کی۔اینٹی رومیو پولیس کے سامنے خاتون نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر شرپسند عناصر کو کیوں قانون کا ڈر نہیں ہے اور پولیس کیوں تماشائی بنی ہو ئی ہے ۔ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات سے بھی یوپی حکومت کی پیشانی پر شکن نہیں ہے

Loading...