مدرسہ میں قائم گئو شالہ کے جانوروں کی خدمت کرتے ہیں مفتیان کرام، دیکھیں ویڈیو

جامعہ کے طلبا کو دودھ مہیا کرانے کے لئے بھینس کو بھی پالا جا سکتا تھا لیکن جامعہ کے منتظمین جامعہ کے طلبا کو گائے کا دودھ پلانے کے ساتھ یہ بھی میسیج دینا چاہتے ہیں کہ برادران وطن کی طرح وہ بھی گائے سے بہت محبت کرتے ہیں

Oct 08, 2019 11:55 PM IST | Updated on: Oct 09, 2019 12:06 AM IST
مدرسہ میں قائم  گئو شالہ کے جانوروں کی خدمت کرتے ہیں مفتیان  کرام، دیکھیں ویڈیو

مدرسہ میں قائم گؤ شالہ کے جانوروں کی خدمت کرتے ہیں مفتیان کرام۔(فوٹو:نیوز18اردو)۔

ہمارے ملک میں گائے اور مدارس اسلامیہ کو لیکراکثرمنفی باتیں کی جاتی ہیں۔لیکن مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ایک ایسا بھی مدرسہ ہے جہاں پر نہ صرف گئو شالہ قائم ہے بلکہ یہاں کے طلبا اوراساتذہ کو صرف گائے کا ہی دودھ پلایا جاتاہے۔ جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی کا شمار بھوپال کے قدیم مدارس میں ہوتا ہے۔ جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمے والی میں طلبا کو دینی و عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے وہیں جامعہ کے منتظمین اور طلبا کو دودھ مہیا کرانے کے لئے گئؤ شالہ بھی قائم کی گئی ہے۔

حالانکہ جامعہ کے طلبا کو دودھ مہیا کرانے کے لئے بھینس کو بھی پالا جا سکتا تھا لیکن جامعہ کے منتظمین جامعہ کے طلبا کو گائے کا دودھ پلانے کے ساتھ یہ بھی میسیج دینا چاہتے ہیں کہ برادران وطن کی طرح وہ بھی گائے سے بہت محبت کرتے ہیں اورانہیں قران اور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسان کے ساتھ سبھی جانوروں سے محبت کا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس پر یہاں عمل کر کے دکھایا جاتا ہے۔

مدرسہ کے منتظمین ہوں یا یہاں کے مفتیان کرام سب باری باری سے مدرسہ میں قائم  گئو شالہ کے جانور وں کی خدمت کرتے ہیں ۔منتظمین کا ماننا ہے کہ گائے کے دودھ میں جو وٹامن ہیں وہ دوسرے جانوروں کے دودھ میں نہیں ہیں۔ جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمے والی کی مدھیہ پردیش میں کئی شاخیں قائم ہیں اور تقریبا بارہ ہزار طلبا اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ یہاں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ جو لوگ مدارس کی تعلیم اور گائے کو لیکر مخصوص نظریہ رکھتےہیں انہیں چاہیئے کہ وہ ان کے مہمان بنیں او دیکھیں کہ وہ کس طرح سے اپنے مدرسہ میں گائے کے ساتھ محبت کا سلوک کرتے ہیں۔

Loading...

نیوز18 اردوکیلئے،بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ

Loading...