உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: اردو طلبا کی کتابوں کی فراہمی کے مطالبے سے متعلق شروع ہوئی تحریک

    مدھیہ پردیش میں نیا تعلیمی سال شروع ہوئے 22 دن کا وقت گزر گیا، لیکن اردو طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں۔ طلبا کو کتابیں فراہم نہیں ہونے سے جہاں اردو طلبا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں نیا تعلیمی سال شروع ہوئے 22 دن کا وقت گزر گیا، لیکن اردو طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں۔ طلبا کو کتابیں فراہم نہیں ہونے سے جہاں اردو طلبا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں نیا تعلیمی سال شروع ہوئے 22 دن کا وقت گزر گیا، لیکن اردو طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں۔ طلبا کو کتابیں فراہم نہیں ہونے سے جہاں اردو طلبا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں نیا تعلیمی سال شروع ہوئے 22 دن کا وقت گزر گیا، لیکن اردو طلبا ابھی تک کتابوں سے محروم ہیں۔ طلبا کو کتابیں فراہم نہیں ہونے سے جہاں اردو طلبا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں اردو طلبا کی مشکلات سے متعلق مدھیہ پردیش کی مسلم اور اردو انجمنوں نے وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار کو میمورنڈم پیش کرکے صوبہ کے اردو اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کرنے اور طلبا کو اردو کتابیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر قاضی سید انس علی ندوی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اردو جو ملک کی مشترکہ تہذیب کی امین ہے اس پیاری زبان کو ایک سازش کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت ’سب پڑھیں، سب بڑھیں‘ کا نعرہ بلند کرتی ہیں وہیں دوسری جانب نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے 22 روز بعد بھی اردو طلبا کتابوں سے محروم ہیں۔ ہم نے اردو کے مسائل سے متعلق ایم پی وزیر برائے اعلی تعلیم موہن یادو جی اور ایم پی وزیر برائے اسکول تعلیم اندر سنگھ پرمار کو میمورنڈم پیش کیا ہے کہ وہ جانب توجہ دیں ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ سال موہن یادو نے نیو ایجوکیشن پالیسی کا حوالے دیتے ہوئے آرٹس کے ساتھ سائنس اور کامرس کے طلبا کو اردو کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر حکومت اپنے اعلان پر آج تک عمل نہیں کرسکی۔
    وہیں سینئر صحافی جاوید خان کہتے ہیں کہ حکومت اردو کے ساتھ دوئم درجہ کا سلوک کر رہی ہے۔ ایک جانب بچے اردو پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں اردو کے ٹیچر نہیں ملتے ہیں اور جب بچے اسکول اور کالجوں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ اردو کے اساتذہ نہیں ہیں۔ حکومت اردو والوں کو گمراہ کر کے زبان کو ختم کرنا چاہتی ہے، مگر ہم لوگ اس کے لئے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
    سماجی کارکن مجاہد خان کہتے ہیں کہ اردو کسی طبقے کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان ہے۔ اس کے فروغ میں بلا لحاظ قوم و ملت سبھی کا خون جگر شامل ہے۔ حکومت اسے مسلمانوں سے جوڑکر اپنے تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتی ہے کہ اردو کے خاتمہ سے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا خاتمہ ہوگا۔ اردو طلبا کے مسائل اور اردو کے لئے یہ تحریک تب تک جاری رہے گی، جب تک اردو طلبا کو اس کا حق نہیں مل جا تا ہے۔

    وہیں اس تعلق سے جب نیوز ایٹین اردو نے مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اسکول تعلیم اندر سنگھ پرمار سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس بار ے میں انہیں علم نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے جو نصاب طے کیا گیا ہے اس کے طلبا کو کتابیں ضرور ملیں گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: