உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: معاشرہ کو بیدار کرکے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات پر کیا جا سکتا ہے کنٹرول

    مدھیہ پردیش: معاشرہ کو بیدار کرکے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات پر کیا جا سکتا ہے کنٹرول

    مدھیہ پردیش: معاشرہ کو بیدار کرکے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات پر کیا جا سکتا ہے کنٹرول

    Bhopal News: مساجد کمیٹی نے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات کو روکنے کے لئے جہاں پری میریج کونسلنگ کا سلسلہ آج سے شروع کیا ہے تو وہیں سماجی بیداری کے لئے عوامی سطح پر بھی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Bhopal
    • Share this:
    بھوپال : مسلم معاشرہ میں طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات نے علمائے دین اور دانشوروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ نیوز18 اردو کے ذریعہ گزشتہ ہفتے اس تعلق سے دکھائی گئی تفصیلی رپورٹ کے بعد مساجد کمیٹی نے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات کو روکنے کے لئے جہاں پری میریج کونسلنگ کا سلسلہ آج سے شروع کیا ہے تو وہیں سماجی بیداری کے لئے عوامی سطح پر بھی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علمائے دین اور دانشوروں کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد اپنے اپنے حقوق کی باتیں دولہا اور دلہن کے ذریعہ کثرت سے کی جاتی ہے، لیکن اس میں فرائض کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ اگر فرائض کی ادائیگی کے ساتھ حقوق کی بات اعتدال کے ساتھ کی جائے تو سارے معاملات خود بخود حل ہو جائیں گے۔

    بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی صدارت میں بھوپال مساجد کمیٹی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ پہلی پری میریج کونسلنگ پروگرام میں علمائے دین کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہوئے جو ازدواجی زندگی کا سفر شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ پری میریج کونسلنگ پروگرام میں بچوں کے ساتھ ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور مساجد کمیٹی کے ذریعہ شروع کی گئی پری میریج کونسلنگ کو وقت کی بڑی ضرورت سے تعبیر کیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مغرب نے ہندوستان کولوٹا،کسی بھی ملک میں اقتدارمخالف انقلاب برپاکرنے کیلئے رہتاہے تیار:پوتن


    بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مادی خواہشات کی تکمیل اور اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب رشتوں میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جب نکاح کیا جائے تو زندگی بھر نبھانے کی نیت سے کیا جائے۔ جب بات زندگی بھر کےلئے ہے تو اسلام یہ کہتا ہے کہ آپ نکاح سے پہلے سبھی پہلوؤں کو دیکھ لیجئے اور سمجھ لیجئے۔ یہاں پری میریج کونسلنگ کرنے کا مقصد نکاح کے بعد دونوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں ، دلہا دلہن کے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق کیا ہیں کہ اسے بھی جاننا ضروری ہے ۔ آپ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کا نظام دو چیزوں پر چل رہا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: 5 جی خدمات کا آغاز، جیو ۔ گلاس پہن کر وزیر اعظم مودی نے لیا ورچوئل ریئلٹی کا جائزہ


    انہوں نے کہا کہ آج سب سے بڑی خرابی معاشرے میں یہ آرہی ہے کہ ہمارے بچے اپنے فرائض  کو ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں مگر حقوق کی باتیں بڑھ چڑھ کرکرتے ہیں۔ ہمارے پاس جو معاملے کونسلنگ کے لئے آتے ہیں اس میں دیکھا گیا ہے کہ آج کی نسل کو اپنے فرائض نہیں معلوم ہیں۔ ہمارا مقصد دونوں کو حقوق کے ساتھ ان کے فرائض سے آگاہ کرنا ہے ۔ جب حقوق اور فرائض اعتدال کے ساتھ ادا کئے جائیں گے تو زندگی میں خوشحالی پیدا ہوگی اور معاشرہ بھی خوشحال ہوگا۔ اللہ کے حکم کی ادائیگی میں سبھی طرح کی کامیابی ہے۔

     

    مساجد کمیٹی کے انچارج سکریٹری یاسر عرفات نے نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پری میریج کونسلنگ کے ذریعہ ہمارا مقصد سماج میں بیداری پیدا کرنا ہے ۔ بہت دنوں سے اس پر غور کیا جا رہا تھا ، آج سے یہ بیداری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو بدستور علمائے دین اور ممتاز کونسلنگ کرنے والوں کی نگرانی میں جاری رہے گا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: