உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان میں اردو کی ترقی کے روشن امکانات، بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد

    ہندستان میں اردو کی ترقی کے روشن امکانات، بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد

    ہندستان میں اردو کی ترقی کے روشن امکانات، بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد

    بزم شائقین ادب اور شبستان ادب بھوپال کے زیر اہتمام مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال کھانوں گاؤں کے صفدر فارم ہاؤس میں منعقدہ ادبی تقریب میں سورت گجرات کے ممتاز شاعر شاہجہاں شاد کے شعری مجموعہ غم نہیں ہے کا اجرا کیا گیا ۔

    • Share this:
    بھوپال : بزم شائقین ادب اور شبستان ادب بھوپال کے زیر اہتمام  مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال کھانوں گاؤں کے صفدر فارم ہاؤس میں منعقدہ ادبی تقریب میں سورت گجرات کے ممتاز شاعر شاہجہاں شاد کے شعری مجموعہ غم نہیں ہے کا اجرا کیا گیا ۔ اجرا تقریب کے موقع پر اردو کے ممتاز دانشوروں نے شاہجہاں شاد کی شاعری  فکر و فن پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور شاہجہاں شاد ؔکی فکری جہات کو عصری تاقضوں سے مزین قرار دیا ۔

    غم نہیں ہے شاہ جہاں شادؔ کا ساتواں شعری مجموعہ ہے ۔ اس قبل شاہجہاں شاذ کے چھ شعری مجموعے اردو اور ہندی زبان میں شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ شاہجہاں شادؔ کے شعری مجموعوں میں وہ ، تم ، ہم، درد جاگا ہے ، پھر یوں ہوا کے نام قابل ذکر ہیں ۔ شاہجہاں شاد کی شاعری زمانے کے مسائل کا ایک آئینہ ہے ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مسائل کی نشاندہی ہی نہیں کی ہے ، بلکہ اس کا حل بھی بتانے کی کوشش کی ہے ۔ شاہجہاں شاد کے شعری مجموعہ غم نہیں کا اجرا ممتاز فلم اداکار و ہدایت کار سچن پلگاؤں کر اور ممتاز فلم رائٹر رومی جعفری کے ہاتھوں کیا گیا ۔

    ممتاز شاعر شاہجہاں شادؔ کہتے ہیں کہ زمانے سے رنج و غم کی شکل میں جو کچھ ملا ہے ، اسے شعری پیرائے میں بیان کردیا ہے ۔ اس میں غم جاناں بھی ہے اور غم دوراں بھی ۔ میں نے اپنے شعری افکار کو بیان کرنے کے لئے لفظوں کی بازیگری کا سہارا نہیں لیا ہے ۔ بلکہ آسان اور عام فہم زبان میں اپنی بات کہنے کی کوشش کی ہے ۔ بس کوشش یہ ہے کہ اردو زبان کی آبیاری ہوتی رہے اور جب تک شاہجہاں شادؔ جیسے فنکار اور اردو کے خادم موجود ہیں ۔ اردو کی ترقی کے امکانات روشن ہوتے جائیں گے ۔

    ممتاز شاعر حسن فتحپوری نے شاہجہاں شاد کی شعری کائنات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ گجرات کا نام اردو کے حوالے سے سر فہرست ہوتا تھا ، مگر اب گجرات میں اردو درس و تدریس کو لیکر پہلے جیسی بات نہیں ہے ، مگر شاہجہاں شاد جیسے فنکار کو جب پڑھتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے ۔ انہوں نے شاعری میں کسی فن کا اضافہ تو نہیں کیا ہے ، لیکن مروجہ اصناف میں وہ بہترین شعر کہہ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری پسندکی جا رہی ہے ۔

    ممتاز کہنہ مشق شاعر ظفر صہبائی نے شاہجہاں شادؔ کی فکری جہات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقبول واجد نے شاہجہاں شاد کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ تین تہذیبوں سے گزرکر آئے ہیں ۔ جن میں اعظم گڑھ ، غازی پور اور سورت کی تہذیب شامل ہے ۔ مگر مجھے ان کی شاعری میں تین تہذیبوں کے عناصر کہیں نہیں ملے بلکہ مجھے ان کے مطالعہ سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ سیدھے سادھے شاعر ہیں۔ ان  کی شاعرہ بھی سادہ ہے اور انہوں نے اپنی بات کہنے کے لئے سادہ زبان کا استعمال بھی کیا ہے ۔ ان کی شاعری سماج کیلئے ایک ایسا شفاف پانی ہے ، جہاں سے زمین کی تہہ صاف دکھائی دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں پر خواص کو بھی متاثر کرتی ہے ۔

    وہیں بھوپال کے منفرد لب و لہجہ کے شاعر و ادیب ملک نوید کہتے ہیں کہ شاعری سماج کا آئینہ اور شاعر کے دل کی آواز ہوتی ہے۔اور سب شعرا اپنے اپنے اسلوب میں اپنے خیالات کو بیان کرتے ہیں۔شاہجہاں شاد ایک غیر اردو کے علاقہ میں رہ کر جس طرح کی شاعری اور زبان کی آبیاری کر رہے ہیں  وہ سب سے اہم ہے ۔ان کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں ماضی کا نوحہ یا نعرہ بازی نہیں ہے  جیسا آج کے شعرا کے یہاں عام بات ہوگئی ہے ۔ان کی شاعری میں زندگی کی حقیقت کو ایک خاص پیرائے میں بیان کیاگیا ہے اور اس سہل انداز میں بیان کیاگیا ہے کہ جب ان کا قاری اسے پڑھتا ہے تو اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ گویا وہی خیال ہیں جو اس کے اپنے دل کا احساس ہے ۔ان کا قاری ان کی شاعری کو پڑھ کر کبھی بوجھل نہیں ہوتا بلکہ اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے ۔

    پروگرام کے آخری حصہ میں مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ مشاعرہ میں حسن فتحپوری، حسن کاظمی، ظفر صہبائی، فاروق انجم ، شاہجہاں شاد، نصرت مہدی، قاضی ملک نوید، ڈاکٹر احسان اعظمی، ڈاکٹرانو سپن ، شرف نانپاروی، شعیب علی خان، فرحان منظر، نعمان غازی، فاضل فیض نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ؍ کیا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: