ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

راجدھانی بھوپال میں کورونا جانباز ڈاکٹر ہی ہوئے بیڈ سے محروم

مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے قہر اور حکومت کے دعووں کو اس وقت پول کھل گئی، جب کورونا جانباز ڈاکٹرہی اسپتال بیڈ سے محروم ہوگئے۔ بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے نو ڈاکٹرکی رپورٹ جب کورونا پازیٹیو آئی اور وہ اسپتال میں علاج کرانے کے لئے پہنچے تو انہیں بھی عام مریضوں کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

  • Share this:
راجدھانی بھوپال میں کورونا جانباز ڈاکٹر ہی ہوئے بیڈ سے محروم
راجدھانی بھوپال میں کورونا جانباز ڈاکٹر ہی ہوئے بیڈ سے محروم

بھوپال: مدھیہ پردیش میں کورونا کے بڑھتے قہر اور حکومت کے دعووں کو اس وقت پول کھل گئی، جب کورونا جانباز ڈاکٹر ہی اسپتال بیڈ سے محروم ہوگئے۔ بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے 9 ڈاکٹروں کی رپورٹ جب کورونا پازیٹیو آئی اور وہ اسپتال میں علاج کرانے کے لئے پہنچے تو انہیں بھی عام مریضوں کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ حمیدیہ اسپتال میں کورونا جانباز 9 ڈاکٹروں کو ایک دو نہیں بلکہ 10 گھنٹے تک بیڈ کا انتظار کرنا پڑا اور جب ڈاکٹروں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے اسپتال انتظامیہ کی بدنظمی کے خلاف احتجاج بلند کیا، تب جاکر انہیں اسپتال میں داخلہ دیا گیا اور ان کا علاج شروع کیا جاسکا۔ کورونا جانباز ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں انتظامیہ کے افسران نے پہلے سے ہی کمروں میں تالے لگا رکھے ہیں تاکہ ان کا کوئی عزیز اگر کورونا پازیٹیو ہو تو اسے بیڈ کے لئے ادھرادھر نہ بھٹکنا پڑے اور اس کو تمام تر طبی سہولیات مہیا کی جا سکی۔

مدھیہ پردیش کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج میں اسپتال انتظامیہ کی کوتاہی اور بیڈ کی کمی کی شکایتیں پہلے بھی کئی بار مریضوں کے ذریعہ پیش کی جا چکی ہے، لیکن حکومت نے ہر بار اسے کانگریس کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، مگرجب آج خود حمیدیہ اسپتال کے نو ڈاکٹروں کی رپورٹ کورونا پازیٹیو آئی اور خود اسی اسپتال کے ڈاکٹروں کو بیڈ کے لئے 10 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا تو حکومت کے لوگ اپنا منھ چھپائے ہھرتے نظر آئے۔


کورونا جانباز ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں انتظامیہ کے افسران نے پہلے سے ہی کمروں میں تالے لگا رکھے ہیں تاکہ ان کا کوئی عزیز اگر کورونا پازیٹیو ہو تو اسے بیڈ کے لئے ادھرادھر نہ بھٹکنا پڑے اور اس کو تمام تر طبی سہولیات مہیا کی جا سکی۔
کورونا جانباز ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں انتظامیہ کے افسران نے پہلے سے ہی کمروں میں تالے لگا رکھے ہیں تاکہ ان کا کوئی عزیز اگر کورونا پازیٹیو ہو تو اسے بیڈ کے لئے ادھرادھر نہ بھٹکنا پڑے اور اس کو تمام تر طبی سہولیات مہیا کی جا سکی۔


مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اور مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے نائب صدر بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی دن سے کہہ رہے ہیں کہ کورونا کو لے کرحکومت کا کوئی بھی فرد سنجیدہ نہیں ہے۔ حکومت کی پوری توجہ صرف انتخابات پر ہے اور وہ ہر طرح سے اقتدار میں بنے رہنے کے لئے نہ صرف اپنی منمانی کر رہی ہے بلکہ حکومت کی منمانی سے ہی صوبہ میں کورونا کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن میں جہاں صوبہ میں پانچ سے 6 سے کے بیچ کورونا مریض یومیہ طور پر سامنے آتے تھے۔ وہیں اب کورونا مریضوں کی تعداد 1900-1800 کے بیچ آرہی ہے۔ اسپتالوں میں بیڈ نہیں ہیں۔ اس کورونا مریضوں کا صحیح طریقے سے ٹیسٹ نہیں کیا جا رہا ہے اور آج نیوز 18 اردو نے خود دکھایا کہ حمیدیہ اسپتال کے ڈاکٹروں کو 10 گھنٹے تک بیڈ نہیں دیا گیا۔ یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ حکومت کا اس وبائی بیماری کے خاتمہ اور عوام کی صحت کو لے کرکوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ کانگریس ان تمام ایشوز کو لے کر عوام کی عدالت میں جائے گی تاکہ اس بدعنوان سرکار کا خاتمہ کیا جا سکے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے پارلیمانی امور اور وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس اپنی زمین کھوچکی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی ہے۔ اسپتالوں میں بیڈ کی کوئی کمی نہیں ہے اور آج ہی حکومت نے کابینہ میٹنگ میں صوبہ کے کورونا مریضوں کا مفت ٹیسٹ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کا مفت ٹیسٹ فیوور کلینک میں کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ اسپتالوں میں آکسیجن بیڈ، آئی سی یو بیڈ کے ساتھ جنرل بیڈ کی تعداد میں بھی اضافہ کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کا خاتمہ اور مریضوں کو بہتر علاج دینے کے لئے حکومت اپنے عہد کی پابند ہے۔ حکومت اپنا کام کر رہی ہے، اب حکومت کے ساتھ عوام کو بھی کورونا کو لے کر اپنی بیداری کا ثبوت دینا ہوگا تبھی یہ وبائی بیماری ختم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں تو کورونا کو لے کر تیاری کرنے کے بجائے یہ لوگ آئیفا ایوارڈ کے انعقاد کو لے کر تیاریوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے ہر محاذ پر عوام کو دھوکہ دینے کا کام کیا ہے اور صوبہ کی عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر صوبہ میں کورونا مریضوں کے علاج کے لئے بیڈ کی کمی نہیں ہے، تو حمیدیہ اسپتال کے کورونا پازیٹیو ڈاکٹروں کو بیڈ کے لئے 10 گھنٹے سے زیادہ انتظار کیوں کرنا پڑا اور جب حکومت نے سارے انتظامات پہلے سے ہی کردیئے تھے تو آج کی کابینہ میٹنگ میں بھوپال، اندور، جبل پور اورگوالیار کے اسپتالوں میں بیڈ کی تعداد میں حکومت نے اضافہ کا فیصلہ کیوں لیا۔ یہ غور کرنے والی بات ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 08, 2020 10:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading