ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مساجد کمیٹی کے کانفرنس میں کمل ناتھ نے کہا : ہم اعلان پر نہیں بلکہ عمل کرنے میں یقین رکھتے ہیں

مساجد کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں حکومت کے ذریعہ بڑھائے گئے مساجد کمیٹی کے بجٹ کی ستائش کی گئی اور ائمہ و موذنین کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کے چیک وزیر اعلی کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے ۔

  • Share this:
مساجد کمیٹی کے کانفرنس میں کمل ناتھ نے کہا : ہم اعلان پر نہیں بلکہ عمل کرنے میں یقین رکھتے ہیں
ائمہ و موذنین کانفرنس میں کمل ناتھ نے کہا : ہم اعلان پر نہیں بلکہ عمل کرنے میں یقین رکھتے ہیں

مدھیہ پردیش میں ائمہ و موذنین کے مسائل کوئی نئے نہیں ہیں ۔ ریاست کا قیام یکم نومبرانیس سو چھپن کو عمل میں آیا تھا اور ابتک ریاست میں صرف دو ہی پارٹیوں کی حکومت رہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی نے ہی مدھیہ  پردیش میں حکومت کی ہے ۔ ان دونوں ہی پارٹیوں نے یہاں کے مسلم سماج سے ووٹ تو لئے ، لیکن ان کے مسائل کی جانب کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ یہاں تک کی  ائمہ و موذنین جن کے مسائل کو لے کر سپریم کورٹ نے 13 مئی 1993 کو احکام جاری کیا تھا ، اس کا بھی ابتک نفاذ نہیں کیا جا سکا ہے ۔ مدھیہ پردیش میں ائمہ وموذنین کے مسائل کو لیکر سماجی تنظیموں کے ساتھ ائمہ و موذنین بھی تحریک چلاتے رہے ہیں ، لیکن نتیجہ صفر ہی رہا ۔ 2018 میں جب ریاست میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی تو ایک بار پھر امام و موذن کے مسائل کو لے کر تحریک شروع کی گئی ۔ یہ تحریک نہ صرف کارگر ثابت ہوئی بلکہ وزیر اعلی کمل ناتھ نے مساجد کمیٹی کے بجٹ میں بڑا اضافہ بھی کیا ۔ بھوپال میں منعقدہ کانفرنس میں سی ایم کمل ناتھ نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ائمہ وموذنین کے مسائل سے بھی روبر و ہوئے ۔  مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر عارف عقیل نے اپنے خطاب میں ائمہ وموذنین کے مسائل کو پیش کیا اور حکومت سے اسے حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔


وزیر اعلی کمل ناتھ نے اپنے خطاب میں ائمہ و موذمین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ملک  کی مشترکہ تہذیب کے فروغ میں علما کے کردار کا خاص طور پر تذکرہ کیا ۔ کمل ناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اعلان پر عمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں ، جو اعلان کرنے والی حکومت تھی اس نے 15 سال اعلانات میں گزار دیئے ۔


مساجد کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں حکومت کے ذریعہ بڑھائے گئے مساجد کمیٹی کے بجٹ کی ستائش کی گئی اور ائمہ و موذنین کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کے چیک وزیر اعلی کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے ۔ مساجد کمیٹی کے چیئرمین عبدالحفیظ خان کا کہنا ہے کہ پہلے امام کو 2200 روپے ماہانہ اور موزن کو 1800 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی ، جس میں اب اضافہ کرتے ہوئے امام کو 5 ہزار اور موذن کو ساڑھے چار ہزار ماہانہ کردیا گیا۔


اس موقع پر کمیٹی اوقاف عامہ کے اسکالرشپ کا چیک کا بھی وزیر اعلی کے ہاتھوں طلبہ کو دیا گیا ۔ 320 طلبہ کو پندرہ لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی کئی گئی ۔ کمیٹی اوقاف عامہ کے چیئرمین عبدالمغنی خان کہتے ہیں کہ گو کہ یہ رقم بہت کم ہے ، لیکن ان کی کوشش ہے کہ مالی دشواریوں کے سبب کسی بھی اقلیتی طالب علم کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو ۔مدھیہ پردیش کے انچارج وزیر ڈاکٹر گووند سنگھ نے اپنی تقریر میں اقلیتیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی بات کہی ۔ پروگرام کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا ۔ ممتاز عالم دین حافظ پیر سراج الحسن مجددی نے اجتماعی دعا کروائی۔
First published: Feb 25, 2020 10:26 PM IST