ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : سیکڑوں کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر

ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا شمار اردو کے زود نویس اہل قلم میں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر ایک سیکڑوں کتابیں تصنیف و تالیف کی تھیں جو اردو ادب کا اہم سرمایہ ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : سیکڑوں کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر
مدھیہ پردیش : سیکڑوں کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس


یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے


اردو دنیا آج جس کے غم میں سوگوار ہے وہ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کی شخصیت ہے ۔ کورونا قہر اردو زبان و ادب پر بھی ایک قہر بن  کر ٹوٹا ہے ۔ کسی ادیب و شاعر کے جانے کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسری خبر آجاتی ہے ۔ سیکڑوں کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے بھی آج جہان فانی کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔


ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کی ولادت یکم جولائی انیس سو اڑتالیس کو نالندہ بہار میں ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے اردو اور فارسی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی اور پھر اردو میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ بھاگلپور یونیورسٹی شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے  اور یہیں سے وظیفہ حسن خدمت سے ریٹائر  ہوئے ۔انہوں نے پوری زندگی علم و ادب کی خدمت میں گزاری ۔

ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا شمار اردو کے زود نویس اہل قلم میں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر ایک سیکڑوں کتابیں تصنیف و تالیف کی تھیں جو اردو ادب کا اہم سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر مناظر عاشق نے خود کو کسی ایک صنف تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں اپنی تحریر کے نقش چھوڑے ہیں۔

سہ ماہی انتساب کے مدیر اور ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کے دوست ڈاکٹر سیفی سرونجی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مناظر عاشق اردو کیلئے پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے پوری عمر اردو کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے جس صنف پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق اداکرنے کی کوشش کی۔ اردو نثرنگاری کےمیدان میں ویسے بھی چند لوگ ہی تھے ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے ، اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

ممتاز شاعر منظربھوپالی کہتے ہیں کہ اردو کا ایک اہم ستون رخصت ہوگیا ہے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے نہ صرف کا دامن وسیع کیا بلکہ انہوں نے تعلیمی ادارے میں رہتے ہوئے ذہن سازی کا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ نا قابل فراموش ہے ۔

ممتاز ادیب و شاعر ڈاکٹر افروز عالم کہتے ہیں کہ اردو میں ڈاکٹر مناظر عاشق جیسا زود نویس اب دوسرانہیں ہے جسے ہم ان کا ثانی کہہ سکیں ۔ انہوں نے اپنی تحریرسے،تحقیق سے صحافت سے اردو کے دامن کو وسیع کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ ہمیشہ ہمیں ان کی یاد دلاتا رہے گا۔ ایک کتاب کو لکھنے میں لوگوں کو پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے تو سیکڑوں کتابوں کو ادبی سرمایہ چھوڑا ہے ۔اردو کے قارئین جب بھی اردو ادب کا مطالعہ کریں گے تو انہیں اردو کے ہر منظر میں ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کا جلوہ نظر آئے گا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 17, 2021 10:13 PM IST