ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا قہر میں نوجوانوں کو مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت نے دیا ملازمت کا تحفہ

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی صدارت میں پولیس ہیڈکوارٹر میں میٹنگ سے قبل انکا پرجوش طریقے سے پی ایچ کیو میں استقبال کیاگیا ۔ پولیس بینڈکی سلامی دی گئی اس کے بعد میٹنگ کا آغاز کیاگیا۔

  • Share this:
کورونا قہر میں نوجوانوں کو مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت نے دیا ملازمت کا تحفہ
کورونا قہر میں نوجوانوں کو مدھیہ پردیش حکومت نے دیا ملازمت کا تحفہ

بھوپال: کورونا کے قہر اور لاک ڈاؤن میں جس طرح سے ہزاروں نوجوان بے روزگار ہوئے ہیں، اس میں مدھیہ پردیش حکومت کا قدم نوجوانوں کے لئے راحت دینے والا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا نے پولیس ہیڈکوارٹر تجزیاتی میٹنگ کے دوران محکمہ پولیس کو جہاں اور فعال بنانے کی ہدایت دی۔ وہیں انہوں نے نئی تقرریاں کئے جانے کے لئے بھی ہری جھنڈی دے دی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی صدارت میں پولیس ہیڈکوارٹر میں میٹنگ سے قبل ان کا پُرجوش طریقے سے پی ایچ کیو میں استقبال کیاگیا۔ پولیس بینڈکی سلامی دی گئی، اس کے بعد میٹنگ کا آغاز کیا گیا۔ پی ایچ کیو میں ہوئی میٹنگ میں محکمہ پولیس میں چار ہزار دوسو انہتر (4269) کانسٹیبل کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ آج پی ایچ کیو کے اندر ہمارے اے ڈی جی سطح کے افسران کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں پولیس کو اپ گریڈ کرنے اور ان کے کاموں اور ان مشکلات پر تفصیل سے بات ہوئی۔ محکمہ پولیس میں پولیس کانسٹیبل کی کمی کو پورا کرنے کے لئے چار ہزار دو سو انہتر  اسامیوں پر تقرری کرنے کے لئے میٹنگ میں بات ہوئی ہے۔ تقرری کے عمل کو پورا کرنے کے لئے ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس فورس میں کچھ اور عہدوں پر تقرری کے لئے مرکز کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے مرکزی حکومت کو بھی تجویز بھیجنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ  صنعتی اداروں کی سیکوریٹی کے لئے الگ سے جوانوں کی تقرری کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے۔صوبہ میں انٹیلی جنس کو اور مضبوط کرنے کولیکر مختلف پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔اسی کے ساتھ پولیس محکمہ میں ڈریس اور گن میں ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات کی گئی ہے۔شیوراج سنگھ سرکار زمینی حقیقت کو جانتی ہے اور یہاں سبھی کے ساتھ انصاف ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے پندرہ مہینے میں سرکارکو لوٹنے کا ذریعہ بنایا دیا تھا وہ جا چکے ہیں۔


وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی صدارت میں پولیس ہیڈکوارٹر میں میٹنگ سے قبل ان کا پُرجوش طریقے سے پی ایچ کیو میں استقبال کیاگیا۔
وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کی صدارت میں پولیس ہیڈکوارٹر میں میٹنگ سے قبل ان کا پُرجوش طریقے سے پی ایچ کیو میں استقبال کیاگیا۔


وہیں مدھیہ پردیش کے سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر قانون پی سی شرما حکومت کے ذریعہ اعلان کی گئی پولیس کانسٹیبل کی تقرری کو چناؤ اسٹنٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ پی سی شرما کہتے ہیں کہ کورونا کے قہر میں ہزاروں نوجوانوں نے روزگار کھویا ہے، لیکن اس سرکار نے نوکریاں نہیں دی ہیں بلکہ نوکریوں کوچھیننےکا کام کیا ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو روزگار ملے لیکن شیوراج سنگھ  سرکار نے جن لوگوں کو کورونا یودھا کے نام پر اسپتال میں نوکریاں دی تھیں ان ڈاکٹروں،نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لوگوں کو دو دو تین تین مہینے سے تنخواہیں نہیں ملیں  ہیں۔ اسمبلی کے ضمنی انتخابات سر پر ہیں اور سرکار کے پیروں سے زمین کھسک رہی ہے اس لئے سرکار نوجوانوں کو روزگار کا لالی پاپ دے کر انہیں اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ پہلے ان لوگوں کو جنہیں کورونا جانباز کے نام پر تقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تنخواہوں کا انتظام کیا جائے اس کے بعد نئی تقرریوں کی بات کی جائے۔ سرکار کا نہ تو کورونا پر کنٹرول ہےاورنہ مہنگائی پر۔ 20 دن سے مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جو لوگ احتجاج کرتے ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی لگاکر سارے کام کرنا چاہتے ہیں۔ اب کہہ رہے ہیں گھر گھر سے کورونا کو ختم کریں گے۔ انہوں نے گھر گھر کی معاشی حالت کی کمر توڑدی ہے۔
یہاں یہ بھی سچ ہے کہ مدھیہ پردیش میں 23 مارچ کو شیوراج سنگھ  نےبطور وزیر اعلی چوتھی بار اپنے عہد ے کا حلف لیا تھا۔ 29 دنوں کے بعد کابینہ کی تشکیل ہوئی، لیکن اس میں پانچ وزرا کو ہی شامل کیا جا سکا تھا۔ اب کابینہ میں توسیع کی بات کی جا رہی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی کابینہ کی توسیع ہوگی، لیکن کابینہ توسیع میں سب سے مشکل مرحلہ سندھیا خیمہ کے ساتھ بی جے پی کا اپنے لیڈروں کو بھی خوش رکھنےکا۔ شیوراج سنگھ کے سر پرکانٹو ں بھرا تاج تو پارٹی نے رکھ دیا ہے۔ اب یہ اسمبلی ضمنی انتخابات میں طے ہوگا کہ بی جے پی سندھیا خیمہ کے ساتھ اپنوں کو خوش رکھنے اور ضمنی انتخابات میں 24 سیٹوں کو جینتے میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے۔ بی جے پی کے لئے اقتدار میں بنے رہنا جتنا بڑا چیلنج ہے۔ وہیں کانگریس کے لئے 24 سیٹوں کو جیت کر اقتدار میں واپس آنا اس سے بڑا چیلنج ہے۔
First published: Jun 26, 2020 04:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading