உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش:ریاستی حکومت کی عدم توجہی سےمدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کا نہیں ہو پارہاہےنفاذ

      مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پر مدھیہ پردیش کے مدارس کو چھ سال سے نہ صرف گرانٹ سے محروم رکھا گیا ہے

    مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پر مدھیہ پردیش کے مدارس کو چھ سال سے نہ صرف گرانٹ سے محروم رکھا گیا ہے

    مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پر مدھیہ پردیش کے مدارس کو چھ سال سے نہ صرف گرانٹ سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ جولائی سے شروع ہونے والے تعلیم سال کی ابھی تک ایم پی کے مدارس کو کتابیں بھی مہیا نہیں کرائی جا سکی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal
    • Share this:
    مدارس کو مین اسٹریم سے جوڑنے اور مدھیہ پردیش کے مدارس کو مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کی سہولیات مہیا کرانےکی باتیں تو حکومت کی جانب سے بہت کی جاتی ہے لیکن عملی سطح پر اس کا فقدان ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پر مدھیہ پردیش کے مدارس کو چھ سال سے نہ صرف گرانٹ سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ جولائی سے شروع ہونے والے تعلیم سال کی ابھی تک ایم پی کے مدارس کو کتابیں بھی مہیا نہیں کرائی جا سکی ہیں۔ حکومت کی عدم توجہی ،بجٹ کا فقدان اور کتابوں کے نہیں ہونے سے مدارس ذمہ داران کے ساتھ ایم پی مدرسہ بورڈ کے طلبا کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مدارس طلبا کے مطالبات اور حکومت کے وعدے کے نفاذ کو لیکر ایم پی کے مدارس نے صوبائی سطح پر تحریک چلانے کا خاکہ تیار کیا ہے۔

    ادھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے صدر صہیب قریشی نے نیوز ایٹین اردو سے حصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مدارس میں جدید علوم کی تعلیم تو دی جاتی ہے لیکن حکومت کا تعاون مدارس کو حاصل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ حکومت کے دعوے اور وعدے پر صوبہ کے مدارس نے اپنے یہاں پر کمپیوٹر لگانے کے ساتھ اساتذہ کا تقرر بھی کیا ہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے صوبہ کے مدارس مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے نفاذ اور اس کے فائیدے سے محروم ہیں۔یہی نہیں امسال حکومت نے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحان کو بورڈ سے جوڑ دیا ہے ۔ لوگ مخالفت کر رہے ہیں لیکن ہم مدارس کے لوگ اس کا استقبال کر رہے ہیں ۔ہماری مشکل یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک مدارس طلبا کے لئے کتابیں بھی جاری نہیں کی ہیں ۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ مدرسہ بورڈ سے وابستہ مدارس اپنے طلبا کو کیسے پڑھائیں۔

    یہ بھی پڑھیں

    وہیں ممتاز عالم دین حافظ اسمعیل بیگ کہتے ہیں کہ الحمد اللہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے مگر حکومت میں بیٹھے کچھ تنگ نطر ہمیشہ مدارس کی تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ مدارس کے ذریعہ جو تعلیم دی جاتی ہے اس میں کمپیوٹر،حساب،سائنس سب کچھ شامل ہے۔اسی کے ساتھ مدارس میں طلبا کو حب الوطنی کا بھی درس دیا جاتا ہے ،حکومت میں بیٹھے لوگوں کو اپنا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

    مدرسہ منتظم حافظ محمد جنید کہتے ہیں کہ مدارس نے ہمیشہ وہ تعلیم دی ہے جو ملک اور قوم کے لئے لازمی ہے۔مدرسہ کے طلبا پر الزام لگانے والوں کو مدارس کا دورہ کرکے ان کا نظام تعلیم دیکھنا چاہیئے۔جو کام حکومت کا ہے وہ کام مدارس کر رہے ہیں ۔ ایسے بھی دیکھا جائے تو بمشکل تین سے چار فیصد بچے ہی مدارس میں جاتے ہیں اور باقی طلبا اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

    ہمارے مدارس کو لیکر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن سرکاری اسکول کی تعلیم جس کا معیار روز بروز گر رہا ہے ۔جس کے لئے حکومت صد فیصد گرانٹ دیتی ہے اس پر بات کرنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔حکوتمت کے دعوی اور وعدے کو بہت انتظار کرلیا ہے ۔ اب لوگ حکومت کے وعدے کو نفاذ میں بدلنے کو لیکر تحریک چلائیں گے اور یہ تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک مدارس کو ان کی گرانٹ اور مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کا نفاذ نہیں ہو جاتا۔
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: