உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نئی تعلیمی پالیسی کا نفاد ملک کے سیکولر تانا بانا کو ختم کرنے کی بڑی سازش : دانشوران

    نئی تعلیمی پالیسی کا نفاد ملک کے سیکولر تانا بانا کو ختم کرنے کی بڑی سازش : دانشوران

    نئی تعلیمی پالیسی کا نفاد ملک کے سیکولر تانا بانا کو ختم کرنے کی بڑی سازش : دانشوران

    ملک میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کی تیاریاں حکومت کی سطح پر بڑے زور و شور سے کی جارہی ہیں ، وہیں دوسری جانب نئی تعلیمی پالیس کو لے کر ملک کے دانشوروں اور اقلیتوں میں نہ صرف خدشات پائے جاتے ہیں بلکہ دانشوروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے ، جو نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو ملک کے جمہوری اقدار کو ختم کرنے کی بڑی سازش سے تعبیر کر رہا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : ملک میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کی تیاریاں حکومت کی سطح پر بڑے زور و شور سے کی جارہی ہیں ، وہیں دوسری جانب نئی تعلیمی پالیس کو لے کر ملک کے دانشوروں اور اقلیتوں میں نہ صرف خدشات پائے جاتے ہیں بلکہ دانشوروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے ، جو نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو ملک کے جمہوری اقدار کو ختم کرنے کی بڑی سازش سے تعبیر کر رہا ہے ۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بھوپال گاندھی بھون میں منعقدہ ایک روزہ کنونشن میں بھی دانشوروں نے نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو ملک کے لئے زہر ہلاہل قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے وسیع مفاد میں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

    آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس أرگنائزیشن مدھیہ پردیش کے صدر مودت بھٹناگر کہتے ہیں کہ بھوپال میں قومی کنونشن کے انعقاد کا مقصد  نئی تعلیمی پالیسی کے خطرات پرکھل کر بات کرنا اور مرکزی حکومت کو اس کے نفاذ سے روکنا ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی میں خاص طور پر تاریخ میں جس طرح سے بدلاؤ کیا جا رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ تاریخ میں اب طلبہ کو شکست و فتح کو نہیں پڑھایا جائے گا بلکہ شکست اور مزاحمت کو پڑھایا جائے گا۔ حکومت کا فوکس مزاحمت کے حوالے سے اپنے نطریہ کو عام کرنا ہے ۔ اسی طرح سے مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ کلوزرٹو مرجر۔سی ایم رائز اسکول کی جو پالیسی ہے یہ پوری طرح سے سرکاری اسکولوں کو بند کرکے تعلیمی کو نجی ہاتھوں میں دینے کی ہے ، جس سے تعلیم عام انسانوں سے دور ہوگی اور ایک خاص طبقہ ہی تعلیم حاصل کرکے خود کو آگے بڑھا سکے گا۔

    وہیں آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قومی نائب صدر بھاوک راجہ کہتے ہیں کہ میرا تعلق گجرات سے ہے اور میں یہ صاف طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ نئی تعلیمی پالیسی دبے کچلے لوگوں کو تعلم کے حق سے محروم کرنے کی ہے ۔ تعلیمی کےشعبہ سے حکومت کے کنٹرول کو پوری طرح سے ختم کرکے نجی ہاتھوں میں دینے کی مرکز اور مدھیہ پردیش کی سطح پر کوشش کی جارہی ہے ۔ تاکہ دلت، آدیواسی، ایس سی ، ایس ٹی اور مسلم طبقہ جو تعلیم حاصل کررہا ہے اس سے اس کو روکا جاسکے۔ یہ کنونشن اس لئے منعقد کیا گیا ہے تاکہ ملک کے جمہورکو بیدار کیا جاسکے اور آج اگر ہم لوگ بیدار نہیں ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

    کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شعیب جی ایم نے کہا کہ تحریک آزادی کے متوالوں کا خواب تھا کہ ملک کی آزادی کے بعد بلا لحاظ قوم وملت سبھی کو تعلیم کے حصول کا حق ہوگا ، مگر آزادی کے بعد تعلیم کا نصاب پارٹیوں کے نظریہ کو سامنے رکھ کرتیار کیا گیا ۔ اب تعلیم کے ادارے ذہن سازی سے زیادہ پیسے بنانے کے منصوبہ کو فروغ دے رہے ہیں ۔ آج بڑے بڑے کارپوریٹ گھرانے تعلیم کے سیکٹر میں اس لئے آرہے ہیں کیونکہ حکومتیں شہریوں کو تعلیم دینے کے حق سے محروم کر رہی ہیں ۔ اب تعلیم وہی حاصل کر سکیں گے جن کا تعلق سرمایہ دار طبقہ سے ہے ۔ اس لئے وقت کی آواز یہی ہے کہ سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور آزادی کے امرت مہوتسو میں مجاہدین آزادی کو سب سے بڑی خراج عقیدت یہی ہوگی کہ ملک وہ تعلیمی پالیسی نافذکرنے کی تحریک چلائی جائے جہاں حکومتیں شہریوں کے لئے ساجھی وراثت کی تعلیم دے سکیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: