ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کے وزیر جیل نروتم مشرا نے کھایا جیل کا کھانا، جیل میں کورونا سے متعلق انتظامات کا لیا جائزہ

مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ اور وزیر جیل ڈاکٹر نروتم مشرا نے صوبہ میں کورونا کے بڑھتے قہر اور جیل کے کچھ قیدیوں میں کورونا کے وائرس پائے جانے کے بعد بھوپال سینٹرل جیل کا دورہ کیا۔ وزیر جیل ڈاکٹر نروتم مشرا نے جیل میں دورے کے دوران نہ صرف سبھی مقامات کا جائزہ لیا بلکہ قیدیوں کے ذریعہ بنائے گئے کھانے کا بھی لطف لیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کے وزیر جیل نروتم مشرا نے کھایا جیل کا کھانا، جیل میں کورونا سے متعلق انتظامات کا لیا جائزہ
مدھیہ پردیش کے وزیر جیل نروتم مشرا نے کھایا جیل کا کھانا

بھوپال: جیل کا نام سنتے ہی اچھے اچھے لوگوں کی روح کانپ جاتی ہے۔ جیل ایسی ہی جگہ ہوتی ہے جہاں پر جرم کرنے والوں کو رکھا جاتا ہے۔ جرم کرنے والوں میں معمولی قسم کا جرم کرنے والے بھی شامل ہوتے ہیں اور خطرناک قسم کے مجرم بھی۔ مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ اور وزیر جیل ڈاکٹر نروتم مشرا نے صوبہ میں کورونا کے بڑھتے قہر اور جیل کے کچھ قیدیوں میں کورونا کے وائرس پائے جانے کے بعد بھوپال سینٹرل جیل کا دورہ کیا۔ وزیر جیل ڈاکٹر نروتم مشرا نے جیل میں دورے کے دوران نہ صرف سبھی مقامات کا جائزہ لیا بلکہ قیدیوں کے ذریعہ بنائے گئے کھانے کا بھی لطف لیا۔ وزیر جیل نے قیدیوں کو کورونا کے قہر سے بچانے کے لئےجہاں سینٹرل جیل میں کورونا وارڈ بنانےکا اعلان کیا وہیں قیدیوں میں امیونٹی سسٹم کو مضبوط کرنےکے لئے انہیں کھانے میں سلاد دینے کا بھی حکم دیا۔

وزیرجیل ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ جیل کے قیدیوں کی سماجی اصلاح کے ساتھ ان کی سہولیات کو بہتر بنانےکے لئے بھی حکومت فکر مند ہے۔ جیل کے دورے سے یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کورونا کے قہر میں  قیدیوں کی دی جانے والی  سہولیات کافی ہیں یا نہیں۔ جہاں جہاں پر اصلاح کی ضرورت تھی انہیں بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی ہیں۔ صوبہ کی سینٹرل جیلوں میں قیدیوں کے لئے کورونا وارڈبنانے کے ساتھ  ساتھ ان کےکھانے کی کوالٹی کو بہتر بنانے او ران کے امیون سسٹم کو مضبوھ کرنے کے لئے انہیں سلاد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کورونا کے قہر میں جن قیدیوں کی پیرول 31 جولائی کو ختم ہورہی ہے اس میں دو ماہ کی توسیع کئے جانے کے ساتھ  قیدیوں کی ان کے گھر والوں سے ملاقات کو آسان بنانے کےلئے ویڈیو کال کی بھی سہولیات شروع کی جائے گی۔


وزیرجیل ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ جیل کے قیدیوں کی سماجی اصلاح کے ساتھ ان کی سہولیات کو بہتر بنانےکے لئے بھی حکومت فکر مند ہے۔
وزیرجیل ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ جیل کے قیدیوں کی سماجی اصلاح کے ساتھ ان کی سہولیات کو بہتر بنانےکے لئے بھی حکومت فکر مند ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے۔ کانگریس تو یہ مطالبہ اس وقت سے کر رہی ہے جب ملک میں کورونا کے سبب پہلا لاک ڈاؤن کا مرحہ نافذ کیا گیا تھا، لیکن حکومت تب ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت اور حکومت بنانے میں مصروف تھی۔ شیوراج حکومت نے اقتدار میں بنے رہنےکے لئے نہ صرف جیل میں قیدیوں کی سہولیات کو نظر اندازکیا ہے بلکہ کورونا کے قہر میں پورے صوبہ کو غیر اعلانیہ جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ مندر، مسجد، چرچ اور گرودواروں میں  عبادت کےلئےجانے والوں پر پابندی ہے اورایک وقت میں صرف پانچ لوگ ہی جا سکتے ہیں، لیکن سیاسی ریلیوں اور سیاسی پروگرام میں شرکت کرنے والوں پر تعداد کا کوئی تعین نہیں ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر صحت پربھورام چودھری کہتے ہیں کہ اچھے کام میں کیڑے نکالنا، کانگریس کی عادت ہوگئی ہے۔ 15 مہینے کی کمل ناتھ حکومت میں صوبہ میں جو ہرسطح پر تباہی ہوئی تھی یہ اس میں اصلاح نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ شیوراج حکومت کے سبب کورونا ریکوری کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور اسپتال میں انتظامات کو بھی بہت بہتر کیا جا چکا ہے۔ ملک کے دوسرے صوبوں کے اسپتالوں میں بیڈ کی کمی ہے، لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ضلع میں طبی سہولیات مزید بہتر سے بہتر بنانےکا سلسلہ جاری ہے اور ایک مہینے میں 12 ہزار مزید ایسے بیڈ ہم بنالیں گے، جس میں بیڈ کے ساتھ آکسیجن پائپ لائن لگی ہوگی۔

صوبہ کی سینٹرل جیلوں میں قیدیوں کے لئے کورونا وارڈبنانے کے ساتھ ساتھ ان کےکھانے کی کوالٹی کو بہتر بنانے او ران کے امیون سسٹم کو مضبوھ کرنے کے لئے انہیں سلاد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبہ کی سینٹرل جیلوں میں قیدیوں کے لئے کورونا وارڈبنانے کے ساتھ ساتھ ان کےکھانے کی کوالٹی کو بہتر بنانے او ران کے امیون سسٹم کو مضبوھ کرنے کے لئے انہیں سلاد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر قانون و سینئر کانگریس لیڈر پی سی شرما کہتے ہیں کہ اگر صوبہ میں کورونا کے حالات میں بہتر ی آ رہی ہے تو پھر پابندیوں کو لے کر نئی گائیڈ لائن کیوں جاری کر دی گئی ہے، جہاں تک قیدیوں کو سہولیات دینےکا سوال ہے تو اس میں وہ قیدی جن کے گھروں میں موبائل فون ہے، وہ تو اپنے لوگوں سے ویڈیوکال کے ذریعہ بات کر لیں گے، لیکن غریب قیدی کیا کریں گے، اس کا سرکار جواب نہیں دے رہی ہے۔ اب ہمارا حکومت سے یہی مطالبہ ہےکہ وہ اخبار کی سرخیوں سے نکل کر عملی کام کرے تاکہ صوبہ میں کورونا کو کنٹرول کیا جا سکے، نہیں تو جس تعداد میں کورونا کے مریضوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سے مستقبل میں خالات مزید تشویشناک ہو جائیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 17, 2020 11:55 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading