உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمیعت علما کے دائرے کو منظم انداز میں گاوں گاوں تک پہنچانا وقت کی بڑی ضرورت

    جمیعت علما کے دائرے کو منظم انداز میں گاوں گاوں تک پہنچانا وقت کی بڑی ضرورت

    جمیعت علما کے دائرے کو منظم انداز میں گاوں گاوں تک پہنچانا وقت کی بڑی ضرورت

    امت مسلمہ کے مختلف مسائل اور جمعیت علما ہند کے دائرے کو وسعت دینے کی غرض سے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں دو روزہ قومی مذاکراتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore
    • Share this:
    بھوپال : امت مسلمہ کے مختلف مسائل اور جمعیت علما ہند کے دائرے کو وسعت دینے کی غرض سے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں دو روزہ قومی مذاکراتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال بیرا گڑھ کے فارچون ریزارٹ میں منعقدہ دو روزہ قومی مذاکراتی اجلاس میں ملک کی سبھی ریاستوں کے ذمہ داروں کے ساتھ مدھیہ پردیش جمیعت علما کے ذمہ داران نے شرکت کی اور جمیعت علما کے تنظیمی مسائل کے ساتھ قومی مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ دو روزہ اجلاس میں جمیعت علما کے دس نکاتی تعمیری پروگرام کو ضلع و مقامی سطح پر نافذ کرنے کے ساتھ ، ملت فنڈ، اصلاح معاشرہ، دینی تحریک ، سیرت کوئز ، اسلامی تشخص کی بقا وغیرہ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    بھوپال فارچون ریزارٹ میں منعقدہ جمیعت کے دو روزہ قومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علما ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسد مدنی نے جمیعت کے ذمہ داروں کو پورے اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ دین، ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کرنے کی تلقین کی۔ مولانا محمود اسد مدنی نے جمعیت علما کے اراکین سے واضح انداز میں کہا کہ بغیر اخلاص کے اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ جمیعت علما ملت اسلامیہ کی پاسبان جماعت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک کے بعد جمیعت علما ہی ملت کی آبرو ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ہریانہ میں بڑھی ائمہ کی سیلری، جانئے اب ایک مہینے میں ملے گی کتنی تنخواہ


    انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے ،امت کے زیادہ تر افراد کی امیدیں ہم سے وابستہ ہوتی ہیں۔امت کی امیدوں پر کھرا اترنے کے لئے ، امت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمیں اور زیادہ یکسوئی اور اخلاص سے محنت کرنے کے ساتھ گاؤں گاؤں میں جمیعت کو پہنچانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔ محمود مدنی نے جمعیت میں جمہوری نظام کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے تنظیمی استحکام کے مقاصد سے صوبائی سطح پرآرگنائئرس کے مقرر کرنے کی ہدایت دی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: وارانسی کے ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش کون ہیں؟ جنھوں نے سنایا گیانواپی مسجد کیس کا فیصلہ


    دو روزہ قومی مذاکراتی اجلاس میں سماج میں پھیل رہے ارتداد اور بے دینی کا مقابلہ کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ قومی اجلاس میں سیرت طیبہ کے حقیقی اورانسانیت دوست پیغام کو عام کرنے کابھی اعلان کیا گیا اور اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سدباب کے لیے علمی و فکری سطح پر پیدا شدہ خلا کو پرکرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ حیات طیبہ کے گوشے کو عام کرنے، اسلامک کوئز شروع کرنے کی بھی تجویز منظورکی گئی۔

    خصوصی اجلاس میں خواتین کو جمیعۃ کے کاز سے وابستہ کرنے کی تجویز بھی آئی، جس کے خدو خال پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا کلیم اللہ فیض آبادی، مولانا افتخار قاسمی اور مولانا حکیم الدین قاسمی کو بطور کنوینر شامل کیاگیا۔ اس کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کی ریاستی یونٹوں کی کارکردگی کے دائرے کووسیع کرنے کے لیے پورے ملک کو پانچ زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے کنوینرس اور ذمہ داران طے کی گئیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: