உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کھر گون تشدد متاثرین کی مدھیہ پردیش جمعیت علما کرے گی باز آبادکاری

    کھر گون تشدد متاثرین کی مدھیہ پردیش جمعیت علما کرے گی باز آبادکاری

    کھر گون تشدد متاثرین کی مدھیہ پردیش جمعیت علما کرے گی باز آبادکاری

    رام نومی کے موقع پر 10 اپریل کو  مدھیہ پردیش کے کھرگون  میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد حالات اب ساز گار ہوگئے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ابھی بھی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے پر پابندی عائد ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: 10 اپریل کو رام نومی کے موقع پر مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد حالات اب ساز گار ہوگئے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ابھی بھی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے پر پابندی عائد ہے۔ جمعۃ الوداع کے موقع پر بھی لوگوں نے اپنے گھر میں ہی نماز ادا کی تھی۔

    تشدد کے 20 دن بعد حالانکہ حالات سازگار ہو گئے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں میں اب بھی خوف سمایا ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما نے کھرگون تشدد متاثرین  کی باز آبادکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عید کے بعد مدھیہ پردیش جمعیت علما اور سدبھاؤنا منچ کا وفد کھرگون کا دورہ کرے گا اور متاثرین کے ساتھ انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لے گا۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ کھرگون تشدد معاملے میں حکومت اور انتظامیہ نے قانون کی بالا دستی کا نفاذ کرنے کے بجائے یکطرفہ کاروائی کی ہے۔
    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ کھرگون تشدد معاملے میں حکومت اور انتظامیہ نے قانون کی بالا دستی کا نفاذ کرنے کے بجائے یکطرفہ کاروائی کی ہے۔


    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ کھرگون تشدد معاملے میں حکومت اور انتظامیہ نے قانون کی بالا دستی کا نفاذ کرنے کے بجائے یکطرفہ کاروائی کی ہے جس کی مذمت کی جاتی ہے۔ حکومت کا کام  کسی فریق کی پارٹی بننا نہیں بلکہ انصاف کے تقاضہ کو پورا کرنا ہوتا ہے، لیکن کھرگون میں حکومت کی نگرانی میں انتظامیہ کے ذریعہ یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے بے گناہ لوگوں کے گھر منہدم کئے گئے ہیں۔ ان کی املاک، دوکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    جمعیت علما کے ذریعہ عید بعد نہ صرف حالات کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ وہاں امن وامان قائم کرنے کے ساتھ جو لوگ شرپسند اور حکومت کے تعصب کا شکار ہوئے ہیں، ان کی باز آبادکاری کی جائے گی تاکہ انہیں سر چھپانے کی جگہ بھی مل سکے اور وہ دوبارہ اپنی ضروریات زندگی شروع کرنے کے لئے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ جمعیت علما کے ساتھ سد بھاؤنا منچ کا وفد بھی ہوگا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: