ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش مدارس کے ہزاروں اساتذہ مفلسی کی زندگی گزرانے پر مجبور ، کوئی نہیں پرسان حال

اساتذہ کومرکزی حکومت کی اسکیم ایس پی کیو ای ایم کے تحت پہلے صد فیصد گرانٹ ادا کی جاتی تھی ، لیکن 2017 میں کئے گئے ترمیم کے بعد مدرسہ اساتذہ کی تنخواہ کے لئے ساٹھ فیصد مرکز اور چالیس فیصد صوبائی حکومت کی حصہ داری طے کی گئی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش مدارس کے ہزاروں اساتذہ مفلسی کی زندگی گزرانے پر مجبور ، کوئی نہیں پرسان حال
مدھیہ پردیش مدارس کے ہزاروں اساتذہ مفلسی کی زندگی گزرانے پر مجبور ، کوئی نہیں پرسان حال

مدھیہ پردیش میں مدرسہ بورڈ کا قیام 22 ستمبر 1998 کو عمل میں آیا تھا ۔ مدرسہ بورڈ کے قیام کا مقصد مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیم سے جوڑنا اور انہیں تعلیم کے ذریعہ ترقی کے نئے مواقع فراہم کرنا تھا ۔ 1998 میں مدرسہ بورڈ کا قیام سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ کی دور اندیشی کا نتیجہ تھا ۔ 1998 سے 2003 تک مدرسہ بورڈ نے خوب ترقی کی اور سوا لاکھ طلبہ اس سے وابستہ ہوئے ۔ 2003 میں مدھیہ پردیش میں حکومت کی تبدیلی ہوئی اور اس تبدیلی کے ساتھ مدھیہ پردیش میں مدرسہ بورڈ اور مدارس کا زوال جو شروع ہوا وہ ابتک جاری ہے۔


مدرسہ بورڈ کے دستور میں درج ہے کہ بورڈ کا چیئرمین وہ شخص ہوگا ، جو ماہر تعلیم ہوگا ، لیکن بی جے پی عہد میں ایس کے مد الدین کے نام کے ایک ایسے شخص کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا ، جن کی کل تعلیم ہائی اسکول بھی نہیں تھی ۔ اس کے بعد کئی چیئرمین آئے لیکن انہوں نے بورڈ، بورڈ کے نظام تعلیم اور مدارس اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنی پوری توجہ مدرسہ بورڈ سے ملنے والی مراعات تک محدوو رکھی ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف بورڈ سے طلبہ دور ہوتے گئے ، بلکہ مدارس کے اساتذہ بھی تنخواہوں سے محروم ہوگئے ۔


اساتذہ کومرکزی حکومت کی اسکیم ایس پی کیو ای ایم کے تحت پہلے صد فیصد گرانٹ  ادا کی جاتی تھی ، لیکن 2017 میں کئے گئے ترمیم کے بعد مدرسہ اساتذہ کی تنخواہ کے لئے ساٹھ فیصد مرکز اور چالیس فیصد صوبائی حکومت کی حصہ داری طے کی گئی ۔ صوبہ میں پانچ سو سترہ ایسے مدارس ہیں ، جن کے اساتذہ کو گزشتہ چار سالوں سے ایک روپے بھی تنخواہ کے نام پر نہیں دیا کیا گیا ۔ جبکہ ایک ہزار چھ سو بیالیس مدارس ایسے ہیں ، جن کے اساتذہ کو گزشتہ تین سالوں سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہے ۔ مدارس اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لیکر اب دونوں ہی حکومتوں سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔


ادھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے جنرل سکریٹری صہیب قریشی کہتے ہیں کہ دونوں حکومتیں مدرسہ اساتذہ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہیں ۔ نہ مرکز ان کے حصے کی گرانٹ جاری کر رہا ہے اور نہ صوبائی حکومت ۔ ایسے میں ہمارے سامنے اپنے وجود کو قائم رکھنے کی لڑائی ہے اور ہم اپنے حق اور وجود کو لے کر پر امن طریقے سے تحریک چلائیں گے ۔ بھوپال میں منعقدہ میٹنگ میں 18 مارچ کو اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے صدرحافظ محمد جنید کہتے ہیں کہ مدارس کے اساتذہ بچوں میں تعلیم کی روشنی پیدا کرکے ملک کے تعلیمی کارواں کو آگے بڑھارہے ہیں ۔ چار سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے ، اس کے باوجود ہم نے تعلیم کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا ہے۔ مرکزی حکومت میں وزیر مختار عباس نقوی سے کئی مرتبہ بات ہوئی ، لیکن نتیجہ صفر ہی ہے ۔ کمل ناتھ حکومت کو مسلمانوں کے 90 فیصد ووٹ تو چاہیئے ، لیکن مسلم بچوں کو مدرسہ کے ذریعہ تعلیم دینے کا کام کرنے والے مدارس کے اساتذہ کی تنٓخواہ انہیں یاد نہیں آرہی ہے۔ اپنے حق کیلئے ہم ہر محاذ تک جائیں گے ۔
First published: Mar 06, 2020 09:40 PM IST