உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے مفت کورسیز کا آغازکیا

    کورونا قہر سے متاثرہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ادارے کے ذریعہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے نہ صرف مختلف کورسیز کا آغاز کیا گیا ہے۔

    کورونا قہر سے متاثرہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ادارے کے ذریعہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے نہ صرف مختلف کورسیز کا آغاز کیا گیا ہے۔

    کورونا قہر سے متاثرہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ادارے کے ذریعہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے نہ صرف مختلف کورسیز کا آغاز کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: کورونا قہر سے متاثرہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ادارے کے ذریعہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے نہ صرف مختلف کورسیز کا آغاز کیا گیا ہے۔ بلکہ فوڈ اینڈ ویجٹیبل اور بیکنگ کلاس کے ذریعہ خواتین کو ہنر سے آراستہ کرکے انہیں گھر سے ہی کاروبار کرنے کا بھی ہنر سکھایا جارہا ہے۔ سو سائٹی کے ذریعہ شروع کئے گئے کورس سے خواتین کو نہ صرف حوصلہ ملا ہے بلکہ خواتین نے اس وقت کی بڑی ضرورت سے تعبیر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھوپال میں منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کا قیام 80 کی دہائی میں مسلم ویلفیئرسو سائٹی کے ذریعہ اس لئے عمل میں آیا تھا تاکہ اقلیتی طلبا کو ہنرسے آراستہ کرکے انہیں روزگار کے مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ سوسائٹی نے ان تین دہائیوں میں خوب ترقی کی ہے اور اس کے طلبا ملک وبیرون میں روزگار سے وابستہ ہوکر اپنا اور اپنے گھرکے لوگوں کی کفالت بھی کر رہے ہیں۔

    ادارے کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ کورونا قہر میں یوں تو سبھی لوگ متاثر ہوئے، مگر خواتین اس سے کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہوئیں ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ گھریلو خواتین کو ہنر سے آراستہ کیا جائے تاکہ ایسی اگر آفات ناگہانی آتی ہیں تو خواتین گھر سے ہی روزگار کرکے اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کر سکیں۔

    منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید افتخار علی کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد اقلیتی طبقہ کو زیادہ سے زیادہ ہنر سکھا کر خود کفیل بنانا ہے۔
    منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید افتخار علی کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد اقلیتی طبقہ کو زیادہ سے زیادہ ہنر سکھا کر خود کفیل بنانا ہے۔


    منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید افتخار علی کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد اقلیتی طبقہ کو زیادہ سے زیادہ ہنر سکھا کر خود کفیل بنانا ہے۔ ہم نے ایک پہل کی اور ہمیں امید سے زیادہ رسپانس مل رہاہے۔ آگے بھی یہ کورس جاری رہیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو خودکفیل بنانے کے ہنر سے آراستہ کیا جا سکے۔ سو سائٹی کے ذریعہ خواتین کو فوڈ اینڈ ویجٹیبل اور سلائی و کڑھائی کے ساتھ زری زردوزی کا ہنر بھی سکھایا جا رہا ہے۔
    وہیں خواتین ونگ کی انچارج طیبہ افتخار کہتی ہیں کہ ہم نے کورونا قہر میں عوام کی مشکلات کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہم نےخواتین کی مجبوریوں کو بھی دیکھا ہے، اس لئے سبھی کی یہ کوشش تھی کہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے ایسا کورس شروع کیا جائے، جس سےخواتین گھر سے ہی اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ یہاں آنے والی خواتین کو بیکنگ کورس کے ذریعہ گھر میں ہی معمولی سی رقم سے بسکٹ، کیک اور دوسری چیزیں بنانی سکھائی جارہی ہے اورمجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہاں آنے والی خواتین چند دن میں ہی سیکھ کر اپنے گھر سے کیک اور بسکٹ بناکر لانے لگی ہیں۔
    بیکنگ کلاس میں شرکت کرنے والی صوفیا تسنیم کہتی ہیں کہ کورونا قہر سے پہلے ایک اسکول میں پرنسپل تھی، لیکن کورونا کے قہر میں ملازمت بھی گئی اورفاقہ کشی کی نوبت آگئی۔ ہم نے اعلی تعلیم تو حاصل کی تھی، لیکن ہنر نہیں سیکھا تھا اور اگر ہمارے پاس ہنر ہوتا تو کورونا قہر میں ہم مشکلات سے نہیں گزرتے۔ یہاں ہم نے بیکنگ کے ذریعہ جو کچھ سیکھا ہے، اس سے اپنا کاروبار بھی کر سکتے ہیں اور ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اب تدریس نہیں کریں گے بلکہ یہ ہنر سیکھ کر اپنا کاروبار کریں گے۔ خود بھی خود کفیل بنیں گے اور دوسرے کو بھی ہنر سکھائیں گے تاکہ وہ بھی ہنر سیکھ خود کفیل بن سکیں اور خدمت کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: