ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : سبھی مسلک کے لیڈروں کی میٹنگ ، کہا : این پی آر کسی بھی صورت میں قبول نہیں

آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے صدرڈاکٹر اوصاف شاہمیری خرم کہتے ہیں کہ اگر ملک میں حکومت نے زور زبردستی کے ساتھ این پی آر کا نفاذ کیا تو اس سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہو جائے گا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : سبھی مسلک کے لیڈروں کی میٹنگ ، کہا : این پی آر کسی بھی صورت میں قبول نہیں
مدھیہ پردیش : سبھی مسلک کے لیڈروں کی میٹنگ ، کہا : این پی آر کسی بھی صورت میں قبول نہیں

سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف ملک کی دوسری ریاستوں کے ساتھ مدھیہ پردیش کے تمام اضلاع اور بھوپال میں دو مہینے سے زیادہ عرِصہ سے بھوپال اقبال میدان میں ستیہ گرہ جاری ہے۔ وہیں بھوپال میں ایم پی مسلم مائنارٹیزایسو سی ایشن کے بینرتلے تمام مسلک کے رہبروں کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال کملا پارک مسجد میں شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں علمائے دین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ این پی آر کا نفاذ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کی دوسری پسماندہ قوموں کے لئے زہر ہلاہل ہے اور ایسی بات جس سے ملک میں آئینی حقوق کا بحران پیدا ہوتا ہے ، اسے کسی بھی طور قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔


میٹنگ میں جہاں این پی آر کو لیکر تمام مسلک کے نمائندوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ، وہیں اس تحریک میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری قوموں کو جوڑنے کا بھی مشورہ کیا گیا۔ میٹنگ میں ایک ہفتے کی اندر ایسی میٹنگ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ، جس میں ملک کی دوسری قوموں کے نمائندے بھی شامل ہوں اور این پی آر کے خلاف مدھیہ پردیش کے ساتھ ملک گیر سطح پر منظم انداز میں تحریک چلائی جا سکے۔


شعیہ عالم دین ڈاکٹر رضی الحسن حیدری کہتے ہیں کہ این پی آر کے نفاذ سے ایک بحران پیدا ہوگا ۔ ہم مردم شماری کے خلاف نہیں ہیں ۔ مردم شماری ہونی چاہئے ، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ مردم شماری اسی طرح کی جائے جیسے پہلے ہوتی رہی ہے۔ ممتاز عالم دین مفتی رحیم اللہ خان قاسمی کہتے ہیں کہ این پی آر ملک کی پسماندہ قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے اور یہ ایک ایسی سازش ہے جس سے ملک کے پسماندہ طبقات کے ساتھ مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا ہے۔ تمام مسلک کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوئے ہیں اور سب مل کر اس کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلائیں گے۔


آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے صدرڈاکٹر اوصاف شاہمیری خرم کہتے ہیں کہ اگر ملک میں حکومت نے زور زبردستی کے ساتھ این پی آر کا نفاذ کیا تو اس سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہوگا ۔ ہم آئین کو ماننے والے لوگ ہیں اور آئینی حقوق کے لئے ہر محاذ پر تحریک چلائیں گے ۔
First published: Mar 10, 2020 11:19 PM IST