உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: اقلیتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی نہیں ہوسکتی ہے ترقی: مسلم تنظیموں کا دعویٰ

    مدھیہ پردیش: اقلیتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی نہیں ہوسکتی ہے ترقی

    مدھیہ پردیش: اقلیتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی نہیں ہوسکتی ہے ترقی

    مسلم تنظیموں نے ملک کی دوسری ریاستوں سے مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کی کمی پر جہاں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتی اداروں اور اقلیتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی ترقی نہیں کی جا سکتی ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آج مدھیہ پردیش کی مسلم نمائندہ تنظیموں کے ذمہ داران کی میٹنگ کی گئی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کی جانب شیوراج سنگھ حکومت کی عدم توجہی سے مسلم تنظیموں میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن 7 مارچ سے شروع ہوگا اور 25 مارچ تک جا ری رہے گا۔ حکومت کے ذریعہ 9 مارچ کو سالانہ بجٹ پیش کئے جانے کی امید ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے، جب مدھیہ پردیش کی مسلم تنظیموں نے ریاست کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کو لے کر ابھی سے حکومت کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش جمیعیۃ علما کے بینر تلے بھوپال شہید نگر میں مدھیہ پردیش کی مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

    مسلم تنظیموں نے ملک کی دوسری ریاستوں سے مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کی کمی پر جہاں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتی اداروں اور اقلیتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی ترقی نہیں کی جا سکتی ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آج مدھیہ پردیش کی مسلم نمائندہ تنظیموں کے ذمہ داران کی میٹنگ کی گئی ہے۔

    مسلم تنظیموں نے ملک کی دوسری ریاستوں سے مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کی کمی پر جہاں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
    مسلم تنظیموں نے ملک کی دوسری ریاستوں سے مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کی کمی پر جہاں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔


    میٹنگ میں اقلیتی اداروں کے بجٹ کو لیکر جو تجویز پاس کی گئی ہے اسے مدھیہ پردیش کے وزیر خزانہ اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ کو بجٹ سے پہلے پیش کیا جائے گا۔ ملک کی ریاستیں مثال کے طور پر بہار،اترپردیش،راجستھان اور مہاراشٹر سے جب ہم مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کا تقابل کرتے ہیں تو ہمیں سخت مایوسی ہوتی ہے۔ دوسری ریاستوں میں اقلیتی اداروں کا بجٹ کئی کئی سو کروڑ ہوتا ہے، لیکن مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کا کل بجٹ پچاس کروڑ بھی نہیں ہے۔یہی نہیں بجٹ کی کمی کے چلتے مساجد کمیٹی،حج کمیٹی،اردو اکادمی،مدرسہ بورڈ وغیرہ اپنے فلاحی کام کرنے سے قاصر ہیں۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اقلیتی اداروں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

    یہ بھی پڑھیں

    کیا امریکہ کو کھٹک رہی ہے ہندوستان-روس کی دوستی؟ یوکرین بحران کی آڑ میں US نے دیا بڑا بیان

    وہیں مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری اقبال مسعود کہتے ہیں کہ ایک جانب اقلیتی اداروں کے بجٹ پر غور نہیں کیا جاتا ہے دوسری جانب اردو زبان کے اساتدہ کی برسوں سے تقرری نہیں کی جار ہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت بجٹ میں اردو اساتذہ کی تقرری کا خصوصی انتظام کرے تاکہ صوبہ میں اردو زبان کے فروغ کے ساتھ اردو کے اساتذہ کو روزگار کے مواقع فراہم ہوسکیں۔

    مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے صدر حاجی محمد ماہر کہتے ہیں کہ اقلیتی ادارے اور ان کا بجٹ حکومت کے ایجنڈے میں ہی نہیں ہے۔ اگر حکومت کو فکر ہوتی ہے تو دوہزار اٹھارہ سے وقف بورڈ،مدرسہ بورڈ،حج کمیٹی،ہی نہیں مساجد کمیٹی اور اقلیتی ادارے بھی خالی پڑے ہیں اور آج تک یہاں پر کسی سربراہ یا کمیٹی کی تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ مساجد کمیٹی میں بجٹ کی کمی کے سبب آج بھی آئمہ وموزنین کو وقت پر تنخواہیں نہیں ملتی ہیں اور جو تنحواہیں ملتی ہیں، وہ کلکٹر ریٹ سے بہت کم ہوتی ہیں۔ مسلم تنظیموں کے نمائیندے اپنے مطالبات کو لیکر سی ایم اور گورنر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: