உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صرف تفریح کے لئے سیکس نہیں کرتیں ہندوستان کی لڑکیاں، جانئے ہائی کورٹ کو کیوں کہنی پڑی یہ بات

    Madhya Pradesh News: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو آبروریزی کے ایک معاملے میں سخت تبصرہ کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستان کی لڑکیاں ابھی اتنی ایڈوانس نہیں ہوئی ہیں کہ صرف تفریح کے لئے سیکس کریں۔ انہیں کوئی یقین دلاتا ہے تبھی وہ سب کچھ حوالے کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔

    Madhya Pradesh News: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو آبروریزی کے ایک معاملے میں سخت تبصرہ کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستان کی لڑکیاں ابھی اتنی ایڈوانس نہیں ہوئی ہیں کہ صرف تفریح کے لئے سیکس کریں۔ انہیں کوئی یقین دلاتا ہے تبھی وہ سب کچھ حوالے کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔

    Madhya Pradesh News: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو آبروریزی کے ایک معاملے میں سخت تبصرہ کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستان کی لڑکیاں ابھی اتنی ایڈوانس نہیں ہوئی ہیں کہ صرف تفریح کے لئے سیکس کریں۔ انہیں کوئی یقین دلاتا ہے تبھی وہ سب کچھ حوالے کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔

    • Share this:
      اندور: مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh News) ہائی کورٹ (High Court) نے آبروریزی کے معاملے میں بڑا تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ہندوستان کی لڑکیاں اس وقت تک جنسی تعلقات کے لئے تیار نہیں ہوتی ہیں جب تک انہیں شادی کی یقین دہانی نہ کرائی جائے۔ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ آبروریزی کے معاملے میں سماعت کے دوران کیا۔ ہائی کورٹ نے آبروریزی کے ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ اس معاملے میں ملزم نے دلیل دی تھی کہ یہ آپسی رضامندی سے بنے جنسی تعلقات کا معاملہ ہے۔

      ہائی کورٹ کی اندور بینچ کے جسٹس سبودھ ابھینکر نے اس ہفتہ کے آغاز میں اپنے حکم میں کہا کہ کسی لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات بناتے وقت لڑکے کو اس کا انجام بھی یاد رکھنا چاہئے۔ عدالت اجین پولیس کے ذریعہ آبروریزی کے الزام میں 4 جون کو گرفتار کرکے ایک ملزم کی ضمانت عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ واضح رہے کہ ملزم کے ذریعہ شادی سے انکار کئے جانے کے بعد لڑکی نے مبینہ طور پر خود کشی کی کوشش کی تھی۔

      جج نے کہی یہ بڑی بات

      جج نے کہا- ’ہندوستان کا سماج آرتھوڈوکس ہے۔ یہ ابھی بھی تہذیب کے ایسی سطح (جدید ترین یا کم) پر نہیں پہنچا ہے، جہاں کسی بھی مذہب کی غیر شادی شدہ لڑکیاں، صرف تفریح کے لئے جنسی تعلقات نہیں بناتی ہیں، جب تک کہ کوئی ان سے شادی کا وعدہ نہ کرے‘۔ عدالت نے کہا- ’کسی بھی لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے والے لڑکے کو اپنے قدم کا انجام بھی سوچنا چاہئے‘۔

      لڑکے نے کہا- رضامندی سے بنائے گئے جنسی تعلقات

      پولیس کے مطابق، ملزم نے لڑکی سے شادی کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد اس کے ساتھ آبروریزی کی۔ حالانکہ ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا لڑکی کے ساتھ دو سال سے محبت کے تعلقات تھے۔ اس کی عمر تقریباً 21 سال ہے اور دونوں کے درمیان رضا مندی سے جنسی تعلقات بنے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ دونوں کے والدین اس شادی کے خلاف تھے، کیونکہ لڑکا ہندو اور لڑکی مخصوص طبقے سے ہے۔

      وہیں دوسری جانب استغاثہ فریق کا دعویٰ ہے کہ لڑکے نے شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے اکتوبر 2018 سے بار بار لڑکی کے ساتھ آبروریزی کی اور اس سال جون میں کہا کہ وہ کسی اور سے شادی کر رہا ہے۔ اس پر لڑکی نے فنائل پی کر جان دینے کی کوشش کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: