ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں 25 فروری کو قاضی کانفرنس ، ائمہ وموذنین سے روبرو ہوں گے وزیر اعلی کمل ناتھ

مدھیہ پردیش میں 1956 سے لیکر ابتک بی جے پی اور کانگریس کی ہی سرکاریں رہی ہیں اور اس درمیان بہت سے لوگوں کو بطور وزیر اعلی مدھیہ پردیش میں حکومت کرنے کا موقع ملا لیکن یہ پہلا موقعہ ہوگا جب کوئی وزیر اعلی امام و موذن کے روبرو ہوگا اور ان کے مسائل کو سنے گا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں 25 فروری کو قاضی کانفرنس ، ائمہ وموذنین سے روبرو ہوں گے وزیر اعلی کمل ناتھ
مدھیہ پردیش میں 25 فروری کو قاضی کانفرنس ، ائمہ وموذنین سے روبرو ہوں گے وزیر اعلی کمل ناتھ

بھوپال میں مساجد کمیٹی کا قیام 1949 میں ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے معاہدے کی روسے عمل میں آیاتھا ۔ معاہدے کے تحت ریاست بھوپال کے ائمہ وموذنین کوان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے مدھیہ پردیش حکومت اسی طرح نذرانہ ادا کرے گی ، جس طرح ریاستی عہد میں نواب حکومت کرتی تھی ۔ معاہدے کے بعد مدھیہ پردیش میں حکومتیں بدلتی رہیں مگر کسی حکومت نے اس جانب سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ حالانکہ 13 مئی 1993 کو سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں تاریخی فیصلہ بھی دیا ، اس کے باوجود مدھیہ پردیش میں سپریم کورٹ کے احکام کا نفاذ نہیں کیا جا سکا ۔


سال 2003 سے 2018 کے درمیان مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت رہی اور اس عہد میں اوما بھارتی ، بابو لال گور اور شیوراج سنگھ کی شکل میں تین وزرائے اعلی نے مدھیہ پردیش میں حکومت کی ، پھر بھی مساجد کمیٹی کے ائمہ وموذنین کے خواب پورے نہیں ہوسکے۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں مدھیہ پردیش میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور کانگریس کا 15 سال کے بعد سیاسی بنواس ختم ہوا۔


کمل ناتھ کے سر مدھیہ پردیش میں کانگریس نے تاجپوشی کی اور یہیں سے ائمہ وموذنین کو کچھ امید کی کرن نظر آئی ۔ بی جے پی عہد میں جہاں امام کو بائیس سو روپے اور موذن کو اٹھارہ سو روپئے دئے جاتے تھے ، کمل ناتھ حکومت نے مساجد کمیٹی کے بجٹ میں اضافہ کیا اور اب امام کو پانچ ہزار روپے اور موذن کو ساڑھے چار ہزار روپے تنخواہ ملے گی ۔ پچیس فروری کو بھوپال میں معقدہ قاضی کانفرنس میں وزیر اعلی کمل ناتھ کے ہاتھوں امام و موذن کو اس کا چیک دیا جائے گا ۔


مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ گوکہ یہ تنخواہ امام و موذن کی ضرورت سے بہت کم ہے اور سپریم کورٹ کے احکام سے بھی بہت کم ہے ۔ 25 فروری کی کانفرنس میں ہم کمل ناتھ کے سامنے مدھیہ پردیش میں اٹھارہ سو ساٹھ کے قاضی ایکٹ کو نافذ کرنے کے ساتھ مساجد کمیٹی کی جگہ مساجد بورڈ بنانے کی مانگ کریں گے ۔ تاکہ ریاست کی مساجد کے ائمہ وموذنین کو ان کا حق مل سکے ۔ اس کے لئے حکومت کو 127 کروڑ کے بجٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔

مدھیہ پردیش میں 1956 سے لیکر ابتک بی جے پی اور کانگریس کی ہی سرکاریں رہی ہیں اور اس درمیان بہت سے لوگوں کو بطور وزیر اعلی مدھیہ پردیش میں حکومت کرنے کا موقع ملا لیکن یہ پہلا موقعہ ہوگا جب کوئی وزیر اعلی امام و موذن کے روبرو ہوگا اور ان کے مسائل کو سنے گا ۔ مساجد کمیٹی نے قاضی کانفرنس کو لے کر تیاریاں تو زور وشور سے شروع کردی ہے اور اسے امید ہے کہ اس مرتبہ اس کے ادھورے خواب پورے ہوں گے ۔ اب کمل ناتھ امام و موذن کے ادھورے خواب پورے کرتے ہیں یا سابقہ حکومتوں کی طرح سبز باغ دکھا کر روانہ ہو جاتے ہیں ، یہ تو اسی دن پتہ چلے گا۔
First published: Feb 22, 2020 10:36 PM IST