ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 نافذ، اس مشہور بالی ووڈ اداکار ہ نے کی تعریف

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ٹویٹ کے ذریعے لکھا’’مذہب کی تبدیلی کیلئے ہماری بہن بیٹیوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں خبردار۔ مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی کا آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے۔ اب ایسے تمام عناصر کو اپنی کرتوتوں سے باز آجانا چاہئے ، بصورت دیگر اب ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 نافذ، اس مشہور  بالی ووڈ اداکار ہ نے کی تعریف
مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی کا آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ’ لوجہاد‘ روکنے کے لئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 کو آج سے نافذ کردیا گیا ہے اور اس کے تحت لالچ اور خوف کے تحت مذہب کی تبدیلی اور مذہب کی تبدیلی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔محکمہ داخلہ کی جانب سے مدھیہ پردیش کے گزٹ میں آج مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 کے نوٹیفائڈ کئے جانے کے ساتھ ہی یہ آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیش رجورا نے تمام کلکٹروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو قانونی طور پر ایک مکتوب کے ذریعہ مطلع کیا ہے۔


دوسری طرف ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ٹویٹ کے ذریعے لکھا’’مذہب کی تبدیلی کیلئے ہماری بہن بیٹیوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں خبردار۔ مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی کا آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے۔ اب ایسے تمام عناصر کو اپنی کرتوتوں سے باز آجانا چاہئے ، بصورت دیگر اب ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔



مشرا نے مزید لکھا ’’آج کا دن ریاست کے لئے تاریخی دن ہے۔ بیٹیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 نافذ کیا ہے۔ مذہب تبدیل کرنے کیلئے ہماری بیٹیوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو اب ہم نہیں چھوڑیں گے‘‘۔مشرا نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ ملک کا ہر ذمہ دار شہری فلم اداکارہ کنگنا رناوت کی طرح مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ کی تعریف کر رہا ہے۔ تبدلی مذہب کیلئے ہماری بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دھڑی کو روکنے کیلئے سخت قانون ضروری تھا۔


دریں اثنا خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز فلم ’دھاکڑ‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں بھوپال آنے والی فلم اداکارہ کنگنا راناوت نے مدھیہ پردیش میں اس قانون کے نفاذ کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ بہت اچھا قانون ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ قانون ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں پریشانی ہوئی ہے ۔ وہ لوگ جو نام یا بین برادری شادی یا کسی اور دھوکہ دہی کی وجہ سے شادی میں فریب کھاتے ہیں ۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ آخر کار حکومت نے ایسا قانون نافذ کیا۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jan 09, 2021 11:34 PM IST