ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال میں سہ روزہ کارٹون نمائش کا انعقاد ، ماحولیاتی بیداری کا پیغام دینے کی کوشش

ممتاز کارٹونسٹ عرفان خان نے اپنے کارٹون کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی ، آبی آلودگی اور فضائی آلودگی کو نہ صرف بہترین انداز میں پیش کیا ہے ، بلکہ اس کے انسان اور معاشرے پر پڑنے والے مضر نقصانات کو بھی کارٹون کے ذریعہ پیش کیا ہے۔

  • Share this:
بھوپال میں سہ روزہ کارٹون نمائش کا انعقاد ، ماحولیاتی بیداری کا پیغام دینے کی کوشش
بھوپال میں سہ روزہ کارٹون نمائش کا انعقاد ، ماحولیاتی بیداری کا پیغام دینے کی کوشش

بھوپال سوراج بھون میں سہ روزہ کارٹون نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ سہ روزہ کارٹون نمائش کا انعقاد محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بھوپال کے سوراج بھون میں کیا گیا ہے ۔ سوراج بھون کے کلا ویتھکا میں لگائی گئی کارٹون نمائش میں ممتاز کارٹونسٹ عرفان خان کی نمائش کو پیش کیا گیا ہے۔ عرفان خان نے اپنے کارٹون کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی ، آبی آلودگی اور فضائی آلودگی کو نہ صرف بہترین انداز میں پیش کیا ہے ، بلکہ اس کے انسان اور معاشرے پر پڑنے والے مضر نقصانات کو بھی کارٹون کے ذریعہ پیش کیا ہے۔

عرفان خان کہتے ہیں کہ سائنسی ترقی کے دوڑ میں انسان مادی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہر وہ کام کر رہا ہے ، جواسے نہیں کرنا چاہئے ۔ پالیٹکل کارٹون تو وہ پہلے بھی بناتے رہے ہیں اور اب بھی بنا رہے ہیں ، لیکن آلودگی کو لے کرانہوں نے جو کارٹون کے ذریعہ سماج کو بیدار کرنے کی مہم شروع کی ہے ، اس کا احساس سب سے الگ ہے ۔ اگر بروقت ہر طرح کی آلودگی کو لے کر انسان کو بیدار نہیں کیا گیا ، تو آنے والے دنوں میں حالات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے ۔


سوراج بھون کے کلا ویتھکا میں لگائی گئی کارٹون نمائش میں ممتاز کارٹونسٹ عرفان خان کی نمائش کو پیش کیا گیا ہے ۔ تصویر : ڈاکٹر مہتاب عالم ۔
سوراج بھون کے کلا ویتھکا میں لگائی گئی کارٹون نمائش میں ممتاز کارٹونسٹ عرفان خان کی نمائش کو پیش کیا گیا ہے ۔ تصویر : ڈاکٹر مہتاب عالم ۔


بھوپال کے سوراج بھون میں کارٹونسٹ عرفان خان کے ذریعہ لگائی گئی سہ روزہ کارٹون نمائش میں گلوبل وارمننگ سے وارننگ ، پالتھین کے استعمال کے مضر اثرات ، فضائی ، آبی اور ماحولیاتی آلودگی کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے ، وہ نہ صرف بے مثل ہے ۔ بلکہ اس سے سماج کی سوچ کو جس طرح سے آئینہ دکھایا گیا ہے ، وہ بھی قابل تعریف ہے ۔ کبھی کبھی یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جاہل انسانوں کی بات تو دور پڑھے لکھے لوگ بھی ماحولیات کو آلودہ کرنے میں پیچھے نہیں رہتے ہیں ۔ انہوں نے گاؤں کی صاف سھتری فضا سے شہر کے ماحول اور شور بھری زندگی کا بھی تقابل کیا ہے ۔
First published: Feb 22, 2020 10:30 PM IST