உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Muncipal Polls : مدھیہ پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں امید سے کم ووٹنگ

    Youtube Video

    پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ووٹ ڈالے گئے ۔حالانکہ ووٹنگ کے بیچ بھوپال(Bhopal)،اندور (Indore)،گوالیار(Gwalior) اور دوسرے مقامات پرسیاسی پارٹیوں کے کارکنان کے بیچ جھڑپیں بھی ہوئیں

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں دو سال تاخیر سے سپریم کورٹ کے احکام سے ہونے والے بلدیاتی انتخابات(Muncipal Polls) میں امید سے کم ووٹنگ(Voting) نے سیاسی تجزیہ نگاروں کو جہاں حیرت میں ڈال دیا ہے وہیں سیاسی پارٹیوں کا سمیکرن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ووٹ ڈالے گئے ۔حالانکہ ووٹنگ کے بیچ بھوپال(Bhopal)،اندور (Indore)،گوالیار(Gwalior) اور دوسرے مقامات پرسیاسی پارٹیوں کے کارکنان کے بیچ جھڑپیں بھی ہوئیں ڈاس کے علاوہ گوالیار میں بارش ہونے اور پولنگ بوتھ کے اندر پانی داخل ہونے و چھت ٹپکنے سے پولنگ متاثر بھی ہوئی اس کے باؤجود شام پانچ بجے تک ایکسٹھ فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    پہلے مرحلے میں صوبہ کے انچاس اضلاع میں گیارہ نگر نگم،چھتیس نگر پالیکا اور چھیاسی نگر پریشد کے لئے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے ذریعہ پرامن ماحول میں ووٹنگ کے لئے انیس ہزار نو سو ستہتر پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔ ووٹنگ ای وی ایم کے ذریعہ کی گئی اور اس کے لئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ تیس ہزار سے زیادہ ای وی ایم مشینوں کا استعمال کیاگیا ۔پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لئے اسی ہزار سے زیادہ ملازمین کی جہاں ڈیوٹی لگائی گئی تھی وہیں پینسٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کوبھی تعینات کیاگیاتھا ۔بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایک کروڑ چار لاکھ اکتالیس ہزارآٹھ سو ستانوے ووٹر س اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے ۔ راجدھانی بھوپال کے پچاسی وارڈ اور میئر کے لئے بھی ووٹ ڈالے گئے مگر راجدھانی بھوپال میں ووٹنگ فیصد دوسروں شہروں کے مقابلے کم ہی رہا۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں سب سے کم ووٹنگ راجدھانی بھوپال میں تینتالیس اعشاریہ اسی فیصد درج کی گئی جبکہ سب سے زیادہ ووٹنگ مدھیہ پردیش کے رتلام میں تیراسی اعشاریہ ستر فیصد درج کی گئی ۔

    یہ بھی پڑھیں

    راجدھانی بھوپال میں جہاں تک ووٹنگ کا تعلق ہے نئے اور پرانے شہر دونوں میں ہی لوگ گھروں سے نکلے ہی نہیں ۔ دوہزار چودہ پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں چھپن فیصد ووٹنگ راجدھانی بھوپال میں درج کی گئی تھی اس بار کے بلدیاتی انتخابات میں سولہ فیصد کم ووٹنگ درج کی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبدالنفیس کم ووٹنگ کو حکومت کی شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔نیوز ایٹین اردو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عوام حکومت کے جھوٹے وعدوں سے گھبرا گئے ہیں ،پنچایت انتخابات میں کانگریس نے پچھہتر فیصد سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ کیا ہے بلدیاتی انتخابات میں بھی بی جے پی کو شکست کا منھ دیکھنا پڑے گا۔

    وہیں شیوراج سنگھ کابینہ کے وزیر وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ کانگریس کے فریب کے سبب ووٹرس گھروں سے نکل نہیں سکے ۔ ایک دو جگہ کی کم ووٹنگ سے کچھ نہیں ہوتا ہے بی جے پی بلدیاتی انتخابات میں بڑی جیت درج کریگی۔ کانگریس کی پندرہ ماہ کی سرکار میں کیاکیاگیا تھا یہ بھی سب نے دیکھا ہے اور شیوراج جی کی قیادت میں عوام کے لئے سوغات کے دروازے کیسے کھولے گئے ہیں یہ بھی عوام دیکھ رہے ہیں ۔

    وہیں سماجی کارکن فرحان خان کہتے ہیں بلدیاتی انتخابات جو مقامی ایشو پر لڑا جاتا ہے ۔اس انتخابات میں سبھی پارٹیوں کے ایجنڈے میں انتخابات کے ابتدائی ایام میں ترقی کی بات تو کی گئی مگر بعد میں سبھی پارٹیاں ذاتیات پر آگئی تھیں ۔ یہی نہیں بھوپال اردو ادب کا مرکز ہے کسی بھی پارٹی کے ایجنڈے میں کارپوریشن کے ذریعہ اسکول کھولنے ،لائبریری قائم کرنے اور اردو زبان کے تحفظ کو لیکر بات نہیں کی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ ووٹر کہیں نہ کہیں اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے اور اس کا اثر ہمیں کم ووٹنگ کے طور پر بھی دیکھنے کو ملا۔ انتخابات اگر جمہوریت کا جشن ہے تو ووٹنگ کے لئے لوگوں کے دلوں میں بیتابی ہونا چاہیئے اور کم سے نوے سے پنچانوے فیصد ووٹنگ ہونا چاہیئے تب تو جمہوریت کی جیت ہے ۔
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: