உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش Urdu Academy کے زیر اہتمام تین سال بعد اعزاز تقریب کا انعقاد، اردو فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تین سال بعد منعقد ہونے والی اعزاز تقریب میں مدھیہ پردیش کے اٹھارہ اردو فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نیوز 18 اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی تخلیق ’تہذیب‘ کے لئے قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تین سال بعد منعقد ہونے والی اعزاز تقریب میں مدھیہ پردیش کے اٹھارہ اردو فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نیوز 18 اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی تخلیق ’تہذیب‘ کے لئے قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تین سال بعد منعقد ہونے والی اعزاز تقریب میں مدھیہ پردیش کے اٹھارہ اردو فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نیوز 18 اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی تخلیق ’تہذیب‘ کے لئے قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں اعزاز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تین سال بعد منعقد ہونے والی اعزاز تقریب میں مدھیہ پردیش کے اٹھارہ اردو فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نیوز 18 اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی تخلیق ’تہذیب‘ کے لئے قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
    مدھیہ پردیش کے اردو فنکاروں کے لئے 28 مارچ کا دن بڑا خاص تھا۔ اردو شاعروں، ادیبوں اور محققین کے لئے یہ دن خاص ان معنون میں تھا کہ تین سال بعد اردو اکادمی کے ذریعہ اردو کے فنکاروں کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ مدھیہ پردیش میں یہ پہلا موقع ہے جب اردو کے فنکاروں کو ان کی مجموعی خدمات پر اعزاز نہ دیکر بلکہ ان کی تخلیقات پر اردو اکادمی کے ذریعہ اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اعزاز تقریب میں 6 قومی اعزاز دیئے گئے۔ نیوز 18 اردو کے سینئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم کی کتاب تہذیب  کے لئے ابراہیم یوسف قومی اعزاز، وفا صدیقی کے شعری مجموعہ نقش تابندہ کے لئے میر تقی میر قومی اعزاز، سہ ماہی انتساب کے مدیر ڈاکٹر سیفی سرونجی کو حکیم قمرالحسن اعزاز، ڈاکٹرخالد محمود کی کتاب نقوش معنی کو جوہر قریشی اعزاز، ڈاکٹر محمد نعمان خان کی کتاب فلسفہ حیات کو شاداں اندوری اعزازاور ڈاکٹر عشرت ناہید کی کتاب منزل بے نشاں کو حامد سعید خاں قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کی جانب سے سب سے پہلے ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی بہترین کتاب تہدیب کے لئے پیش کرتی ہوں کہ انہیں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے قومی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کی جانب سے سب سے پہلے ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی بہترین کتاب تہدیب کے لئے پیش کرتی ہوں کہ انہیں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے قومی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔


    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کی جانب سے سب سے پہلے ڈاکٹر مہتاب عالم کو ان کی بہترین کتاب تہدیب کے لئے پیش کرتی ہوں کہ انہیں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے قومی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔ اس کے لئے  اکٹر مہتاب عالم کی ادبی خدمات، تحقیق اورکتاب مستحق ہے۔ اسی طرح سے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی کوشش ہے کہ مختلف اصناف پر مبنی 20-2019 اور 21 میں جو کتابیں شائع ہوئی ہیں اس پر انعام دیئے جائیں اور آج کاپروگرام اسی پر مبنی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پہلے ایوارڈ مجموعی خدمات اور شخصیات پر دیئے جاتے تھے، مگر اب کتابوں پر ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ 6 قومی ایوارڈ اور 12 صوبائی ایوارڈ آج دیئے گئے ہیں۔ سبھی کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اعزاز قبول کرکے ہمیں فخر کرنے کا موقع دیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    دہلی اسمبلی میں ہنگامہ، اسپیکر نے BJP کے 3 اراکین اسمبلی کو کیا معطل
    مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر اعزاز تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سبھی اعزاز یافتگان کا استقبال کرتی ہوں۔ آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر منعقدہ یہ اعزاز تقریب خاص ہے۔ ساہتیہ کار سماج کے نمائندہ ہوتے ہیں اور جن لوگوں کی کتابوں پر اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے، ان کی تحریریں بیش قیمتی ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب ہم آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں، تو میں سبھی سے اپیل کرنا چاہوں گی کہ آپ اپنے گھروں میں اپنی پسند کے کسی مجاہد آزادی کی تصویر ضرور لگائیں۔ تصویر جن کی ہم لگاتے ہیں ہم ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں اور قومیت کا پیغام ایک نسل سے دوسری نسل میں ہم منتقل کرتے ہیں۔ ویر عبدالحمید، کلام صاحب، رسخان، رحیم جن کے پیعام کی معنویت صدیوں بعد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے عظیم لوگوں کو اپنے گھرکی بیٹھکوں میں جگہ دیں یہ میری آپ سے گزارش ہے۔بی جے پی نےکبھی کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی۔ جتنی بھی فلاحی اسکیمیں بنی ہیں وہ سبھی سماج کے لوگوں کے لئے ہیں۔ لاڈلی لکشمی یوجنا کسی ایک طبقہ کے لئے نہیں ہے، اسی طرح سے ویواہ یوجنا ہے، تو نکاح یوجنا بھی ہے، جس سے سبھی سماج کے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جس کی جو اہلیت ہے، اس کو وہ فائدہ ملتا ہے۔ یہ ملک آئین سے چلتا ہے اور آئین ہماری روح ہے۔ آئیے ہم اس کو مضبوط کریں اور اپنے ملک کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کریں۔ آپ سب کو اعزاز کے لئے ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    کیرلا میں مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا، Muslim Dancer نے سوشل میڈیا پر بتائی درد بھری داستاں
    اعزاز تقریب کی صدارت بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بھوپال کے سابق رکن پارلیمنٹ آلوک سنجر نے کی۔ آلوک سنجر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال نہ صرف گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے بلکہ اردو ادب کا مرکز بھی ہے۔ آج 6 قومی اور بارہ صوبائی اعزاز دیا گیا ہے۔ جو لوگ پسینے کی سیاہی سے ادب تخلیق کرتے ہیں، ان کی تحریریں سماج کا مارگ درشن کرتی ہیں۔ یہاں جتنے لوگ بھی وہ سب عظیم فنکار ہیں، لیکن ڈاکٹر مہتاب عالم نے بھوپال کی تہذیب پر اپنا ناول تہذیب لکھ کر بھوپال کی مشترکہ تہذیب کو ملک و بیرون ملک میں پہنچانے کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، وہ بے مثل ہے۔ میں شاعرو ادیب تو نہیں ہوں، لیکن ادب کو پڑھتا ہوں اور ان عظیم لوگوں کے بیچ آنا میرے لئے فخر کی بات ہے اور ایم پی اردوکا پیغام پورے ملک میں جائے گا۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا قیام 1976 میں عمل میں آیا تھا اور ابھی تک قومی ایوارڈ مدھیہ پردیش سے باہر کے فنکاروں کو دینے کی روایت رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے، جب ایم پی اردو اکادمی کے سبھی ایوارڈ مدھیہ پردیش کے اردو فنکاروں کو ہی دیئے گئے ہیں۔ اکادمی کی جانب سے کوثر صدیقی کو ندا فاضلی اعزاز، قاسم رسا کو سراج میرخاں سحر اعزاز، ڈاکٹر رضیہ حامد کو سورج کلا سہائے اعزاز، ضیا فاروقی کو نواب شاہجہاں بیگم اعزاز، کے کے راجپوت کمل کو شمبھو دیال سخن اعزاز، اقبال مسعود کو شعری بھوپالی اعزاز، ڈاکٹر محمود شیخ کو محمد علی تاج اعزاز، نفیسہ سلطانہ انا کو باسط بھوپالی اعزاز، جاوید یزدانی کو نواب صدیق حسن خاں اعزاز، صبیحہ صدف کو جاں نثار اختر اعزاز، ڈاکٹر عارف انصاری کو پنا لال سریواستو نور اعزاز اور کوثر فرزانہ کو کیف بھوپالی صوبائی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: