بھوپال : مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی جانب سے پونے چار سو کمیٹیوں کے خلاف کارروائی

مدھیہ پردیش میں حکومت بدلنے کے بعد وقف بورڈ کی کاروائی نے ایک ریکارڈ قائم کیاہے۔

May 21, 2019 11:23 AM IST | Updated on: May 21, 2019 11:28 AM IST
بھوپال : مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی جانب سے پونے چار سو کمیٹیوں کے خلاف کارروائی

مدھیہ پردیش میں حکومت بدلنے کے بعد وقف بورڈ کی کارروائی نے ایک ریکارڈ قائم کیاہے۔ بورڈایڈمنسٹریٹر نے پونے چار سو کمیٹیوں کو جہاں ضابطہ کے خلاف مانتے ہوئے کارروائی شروع کی ہے وہیں درگاہوں کے متولیوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد جب وقف بورڈ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کی گئی تو لوگو ں کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ کیا ایڈمنسٹریٹر وقف بورڈ میں کوئی انقلاب لاسکیں گے۔ سوال اس لئے بھی تھا کہ وقف املاک پر جو لوگ قابض ہیں ان کی پہنچ سیاسی گلیاروں تک ہے اور جن لوگوں کو سابقہ بورڈ نے کمیٹیوں میں رکھا تھا وہ بھی سیاست میں بڑا اثر رکھتے ہیں۔ لیکن بورڈ ایڈمنسٹریٹر نے تمام سیاسی اثر و رسوخ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سب سے پہلے ان کمیٹیوں پر ہنٹر چلایا جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ ضابطہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سابقہ حکومت میں سیاسی لوگوں کو پشت پناہی دینے اور جیب خرچ کو مینٹین کرنے کے لئے تشکیل دی گئی تھیں۔ بورڈ ایڈمنسٹریٹر نے جن کمیٹوں پرکارروائی شروع کی ہے وہ ایک دونہیں بلکہ ان کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔

بورڈایڈمنسٹریٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بورڈ کے تحت صوبہ میں جن قدیم درگاہوں کا نظم و نسق ہے وہ بہت رچ ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی صحیح ہے کہ سابقہ حکومت میں جب وہاں کی کمیٹیوں میں سیاسی لوگوں کو داخل کیا گیا تو اس سے بورڈ کی انکم حد درجہ متاثر ہوئی تھی۔ ایڈمنسٹریٹرکا کہنا ہے کہ جن درگاہوں کی انکم ماہانہ لاکھوں میں ہوتی ہے وہاں سے کبھی دس ہزار روپیئے بھی ماہانہ بورڈ کو حاصل نہیں ہوئے۔ بورڈ نے منظم طریقے سے ان درگاہوں کو نشاندہی کر کے انکے نظام کواپنے ہاتھ میں لیا ہے جن کی ماہانہ آمدنی لاکھوں میں ہے تاکہ ان کی انکم سے بورڈ کے فلاحی کام کئے جاسکے اور ان کی آمدنی سے اقلیتی طلبا کی تعلیم اور اسکالرشپ کا کیا جا سکے ۔ آپ بھی دیکھئے بھوپال سے ڈاکٹرمہتاب عالم کی یہ رپورٹ

Loading...

Loading...