ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں نئے سی ای او کا تقرر، بھوپال کے ایس ڈی ایم جمیل احمد کو اضافی ذمہ داری

بھوپال ایس ڈی ایم جمیل احمد جنہیں ایم پی وقف بورڈ کی ذمہ داری اضافی چارج کے طور پر دی گئی ہے۔ انہوں نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی زمینوں کو نا جائز قبضہ سے آزاد کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اس سے واقف ہونےکی منشا کے مطابق فلاحی کام انجام دیئے جا سکیں گے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں نئے سی ای او کا تقرر، بھوپال کے ایس ڈی ایم جمیل احمد کو اضافی ذمہ داری
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں نئے سی ای او کا تقرر، بھوپال کے ایس ڈی ایم جمیل احمد کو ایڈیشنل چارج

بھوپال: اقلیتی اداروں اور اقلیتی مسائل سے حکومتوں کی عدم توجہی جگ ظاہر ہے۔ مدھیہ پردیش میں 2018 سے اب تک دو حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں، مگرکسی بھی حکومت کو اقلیتی اداروں کی فکر نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں دو سال سے کسی کمیٹی اور چیئرمین کی تقرری نہیں کی گئی ہے وہیں دو برس کے بعد ایم پی وقف بورڈ میں نئے سی ای او کی تقرری تو کئی گئی ہے، مگر نئے سی ای او بھی وقف بورڈ میں فل ٹائم نہیں دے سکیں گے بلکہ ان کے پاس ایم پی وقف بورڈ کی ذمہ داری اضافی چارج کے طور پر رہے گی۔

ایم پی وقف بورڈ اور تنازعہ کا چولی دامن کا ساتھ ہونے کے سبب کوئی بھی افسر بورڈ میں آنے کو تیار نہیں ہے۔ مارچ سے اب تک بورڈ میں کسی کمیٹی کے نہیں ہونے کے سبب دو ایڈمنسٹریٹر بدل چکے ہیں، وہیں بورڈ کے سینئر ملازمین دو برس سے بورڈ کے سی  ای او کی ذمہ داریاں دیکھ رہے تھے۔ اگر بورڈ میں 2001 سے 2020 کی مدت کی بات کریں تو اس عرصہ میں بورڈ جسٹس اے جی قریشی، عالم گیر خان غوری، غفران اعظم اور شوکت محمد خان بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ اس عرصہ میں ایم پی وقف بورڈ میں 8 ایڈمنسٹریٹر کا تقرر بھی کیاجا چکا ہے۔ مگر بورڈ کی کارکردگی اور اس کی خستہ حالی کو کوئی دور نہیں کر سکا۔ سچ تو یہ ہے کہ بورڈ خستہ حال ہوتا گیا اور بورڈ میں آنے والے چیئرمین اور کمیٹی امیر ہوتی گئیں۔


مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ وقف بورڈ میں جاری بدعنوانی کو ختم کرنے اور بورڈ کو خود کفیل بنانے کے لئے ہم فکر مند ہیں، مگر کیا کریں انتظامیہ کا کوئی بھی افسر ایم پی وقف بورڈ میں جانے کو تیار نہیں ہے۔
مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ وقف بورڈ میں جاری بدعنوانی کو ختم کرنے اور بورڈ کو خود کفیل بنانے کے لئے ہم فکر مند ہیں، مگر کیا کریں انتظامیہ کا کوئی بھی افسر ایم پی وقف بورڈ میں جانے کو تیار نہیں ہے۔


مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ وقف بورڈ میں جاری بدعنوانی کو ختم کرنے اور بورڈ کو خود کفیل بنانے کے لئے ہم فکر مند ہیں، مگر کیا کریں  انتظامیہ کا کوئی بھی افسر ایم پی وقف بورڈ میں جانے کو تیار نہیں ہے۔ بھوپال ایس ڈی ایم جمیل احمد کو ایڈیشنل چارج کے طور پر ایم پی وقف بورڈ کے سی ای او کی ذمہ داری گی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جمیل احمد پوری ایمانداری سے اپنا کام کریں گے۔ اس سے پہلے بھی جمیل احمد جن محکموں میں رہے ہیں انہیں نے اچھا کام کیا ہے۔ بورڈ میں نئے ایڈمنٹسریٹر اور نئے سی ای او کی تقرری ابھی کی گئی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد بورڈ کی تشکیل دی جائے تاکہ بورڈ مسلم سماج کی فلاح کے لئے کام کر سکے۔
وہیں بھوپال ایس ڈی ایم جمیل احمد جنہیں ایم پی وقف بورڈ کی ذمہ داری اضافی چارج کے طور پر دی گئی ہے۔ انہوں نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی زمینوں کو نا جائز قبضہ سے آزاد کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اس سے واقف ہونے کی منشا کے مطابق فلاحی کام انجام دیئے جا سکیں گے۔ مسلم طلبا کی تعلیم، اسکالرشپ اور ان کی کوچنگ کا انتظام ہو سکے، اس کے لئے بنیاد بناکر کام کرنا ہے۔ آپ لوگوں کے مشورہ سے مجھے یقین ہے کہ حالات میں تبدیلی آئے گی۔

 چارج سنبھالنے کے بعد جمیل احمد نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی زمینوں کو نا جائز قبضہ سے آزاد کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
چارج سنبھالنے کے بعد جمیل احمد نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی زمینوں کو نا جائز قبضہ سے آزاد کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان بھوپیندرگپتا کہتے ہیں کہ ایم پی میں ایماندار افسران کی کمی نہیں ہے، بلکہ شیوراج سرکار کے ذریعہ کی جانے والی دھن اگاہی سے افسران پریشان ہیں، اس لئے افسران کہیں جانے سے گھبراتے ہیں۔ پچھلے 15 سالوں میں ایم پی بورڈ میں کیا کیا ہوا تھا یہ سب کو پتہ ہے۔ ایم پی وقف بورڈ کی سبھی زمینوں کو ریوینو ریکارڈ میں سرکاری لکھ دیا گیا مگر سرکار کے کانوں میں پر جیوں تک نہیں رینگی۔ کمل ناتھ حکومت نے ریکارڈ کو درست کرنے کا کام شروع کیا تھا اور تقریباً 11 اضلاع کے ریکارڈ درست بھی ہوچکے تھے، مگر سرکار بدلنے کے بعد ایک بار پھر سبھی کام التوا میں چلے گئے۔ اب ایماندار آدمی اور ایماندار افسر گھبرا رہے ہیں۔ مافیا پر لگام لگانے کے بجائے وصولی کام کا کام جاری ہے اور یہ سب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ یہ عوام ہے، سب جانتی ہے  اور بہت جلد انہیں اقتدار سے باہر کا راستہ دکھائے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 04, 2020 09:50 PM IST