உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madras High Court:سات سمندرپار دولہا،ہندوستانی دلہن ہائی کورٹ جا کر لے آئی آن لائن شادی کی منظوری

    مدراس ہائی کورٹ کی بنچ نے دی آن لائن شادی کی اجازت۔

    مدراس ہائی کورٹ کی بنچ نے دی آن لائن شادی کی اجازت۔

    Madras High Court: معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے سب رجسٹرار کو تین گواہوں کی موجودگی میں شادی کرانے کی ہدایت دی۔

    • Share this:
      Madras High Court: جیسے جیسے دنیا بھر میں نئی ​​ٹیکنالوجی آرہی ہے، اسی طرح انسان بھی انوکھے تجربات کر رہے ہیں۔ معاملہ تمل ناڈو(Tamilnadu) کا ہے جہاں ایک لڑکی امریکہ میں رہنے والے لڑکے سے آن لائن شادی(Online Marriage) کر ے گی۔ جس کی منظوری مدراس ہائی کورٹ(Madras High Court) کی مدورائی بنچ نے دی ہے۔ تاہم اس کی ایک بڑی وجہ بھی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے آن لائن شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      کنیا کماری ضلع کی وسامی سدرشنی نے مدورائی بنچ میں عرضی دائر کی تھی۔ اس درخواست میں، اس نے کہا کہ وہ راہول ایل مادھو سے شادی کرنا چاہتی ہے، جو ایک این آر آئی ہے جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہے اور اس کے پاس امریکی شہریت ہے۔

      والدین نے آن لائن شادی کے لئے دے دی اجازت
      سدرشنی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ہمارے والدین نے آن لائن شادی کی اجازت دے دی ہے۔ ہم دونوں ہندو مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم یہاں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرنے کے اہل ہیں۔ ہم نے اس ایکٹ کے تحت شادی کرنے کے لیے آن لائن درخواست دی ہے۔

      درخواست میں کہا گیا کہ ہم دونوں ذاتی طور پر نکاح کے لیے رجسٹرار کے سامنے پیش ہوئے لیکن ہم دونوں نے شادی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے 30 دن کی شرط کے باعث انتظار کیا۔ لیکن 30 دن گزرنے کے باوجود رجسٹرار نے ہماری شادی کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hydrogen Bus:لداخ میں شروع ہوگی ملک کی پہلی ہائیڈروجن بس سروس، این ٹی پی سی کرے گا آپریٹ

      یہ بھی پڑھیں:
      Nupur Sharma Row:نوپور شرما کی حمایت میں کیا کمنٹ، پاکستان سے آنے لگے دھمکی بھرے پیغام

      اس سلسلے میں میرے ہونے والے شوہر راہول کے پاس یہاں رہنے کا وقت نہیں تھا، ان کے پاس چھٹی بڑھانے کا کوئی راستہ نہیں تھا، اس لیے وہ امریکہ چلے گئے۔ لیکن انہوں نے ایک حلف نامہ دیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے شادی کی رجسٹریشن سے متعلق کوئی بھی کارروائی کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شادی کرنی چاہیے اور اسپیشل میرج ایکٹ کے ذریعے رجسٹر کرانا چاہیے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے سب رجسٹرار کو تین گواہوں کی موجودگی میں شادی کرانے کی ہدایت دی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: