உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عام دلت سے لے کر دستور ہند کے معمار بننے تک ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جدوجہد سے بھرپور زندگی

    بابا صاحب ہندوستان میں دلت جدوجہد کے پرچم بردار بھی رہے۔

    بابا صاحب ہندوستان میں دلت جدوجہد کے پرچم بردار بھی رہے۔

    مدھیہ پردیش کے مہو میں پیدا ہوئے امبیڈکر اپنے والدین کے 14ویں اور آخری اولاد تھے۔ وہ بنیادی طور پر ماہر معاشیات اور ماہر تعلیم تھے۔ بابا صاحب ہندوستان میں دلت جدوجہد (Dalit Activism) کے پرچم بردار بھی رہے۔

    • Share this:
      باباصاحب امبیڈکر کے نام سے مشہور معمار دستور ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر (Dr Bhimrao Ramji Ambedkar) کا انتقال 6 دسمبر 1956 کو ہوا۔ ان کی برسی کا اہتمام مہاپرینیروان دیوس (Mahaparinirvan Diwas) کے نام سے کیا جاتا ہے۔

      مدھیہ پردیش کے مہو میں پیدا ہوئے امبیڈکر اپنے والدین کے 14ویں اور آخری اولاد تھے۔ وہ بنیادی طور پر ماہر معاشیات اور ماہر تعلیم تھے۔ بابا صاحب ہندوستان میں دلت جدوجہد کے پرچم بردار بھی رہے، جنہیں ہندوستانی آئین کا معمار (Architect of the Indian Constitution) کہا جاتا ہے۔

      بی آر امبیڈکر 29 اگست 1947 کو آزاد ہندوستان کے آئین کی مسودہ سازی کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ وہ آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر قانون بھی رہے۔ انہوں نے دلتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی ضمن میں انھوں نے ایکسکلیوٹیڈ انڈیا (Excluded India)، موک نائک (Mook Nayak) اور جنتا (Janta) کے نام سے پندرہ روزہ اور ہفتہ وار اخبارات بھی شروع کیے تھے۔ شادی کے وقت ان کی پہلی بیوی کی عمر صرف 9 سال تھی۔

      ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی 65 ویں برسی پر ہم ان کے بارے میں 10 اہم حقائق پر طائرانہ نظر ڈال رہے ہیں:

      1- ڈاکٹر امبیڈکر نے 64 مضامین میں ماسٹرز کیا تھا۔ جملہ 9 زبانیں جانتے تھے اور 21 سال تک دنیا کے کئی مقامات میں تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ ڈاکٹریٹ کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔

      2- امبیڈکر پہلے بدھسٹ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ مہاراشٹرا کی مہار ذات (Mahaar caste) سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوا تھے، جو اس وقت ایک نچلی ذات سمجھی جاتی تھی اور اس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ’’اچھوت‘‘ کہا جاتا تھا۔ سنہ 1956 میں انھوں نے بدھ مت اختیار کیا تھا۔

      دیکشا بھومی ناگپور میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ان کے پیروکاروں نے بدھ مت قبول کیا تھا (Image: Shutterstock)
      دیکشا بھومی ناگپور میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ان کے پیروکاروں نے بدھ مت قبول کیا تھا (Image: Shutterstock)


      3-  ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی 20 صفحات پر مبنی سوانح حیات ’’ویٹنگ فار اے ویزا‘‘ کو کولمبیا یونیورسٹی میں بطور ٹیکسٹ بک استعمال کیا جاتا ہے۔

      4- وہ آج تک واحد ہندوستانی ہیں جن کا مجسمہ کارل مارکس کے ساتھ لندن میوزیم میں نصب کیا گیا ہے۔

      5- بابا صاحب کی ذاتی لائبریری راج گڑھ 50 ہزار سے زیادہ کتابوں کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی لائبریری تھی۔

      6- دنیا بھر میں بدھا کی تمام پینٹنگز اور مجسموں پر بدھا کی آنکھیں بند تھی۔ امبیڈکر وہ پہلے واحد شخص تھے جنھوں نے بدھا کی کھلی آنکھوں کی پینٹنگ بنائی تھی۔

      ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے سیکڑوں پیروکار ان کی برسی کے موقع پر دادر، ممبئی میں چیتیا بھومی پر جاتے ہیں۔
      ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے سیکڑوں پیروکار ان کی برسی کے موقع پر دادر، ممبئی میں چیتیا بھومی پر جاتے ہیں۔


      7- وہ پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے پہلے وکیل تھے۔

      ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مشہور زمانہ اقوال یہاں ملاحظہ کیجیے

      8- ان کی اصل کنیت امباوڈیکر (Ambawadekar) تھی، جسے اسکول میں ان کے استاد نے بدل کر امبیڈکر رکھ دیا تھا۔

      9- امبیڈکر کو بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازا گیا، جو ہندوستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔

      10- امبیڈکر دنیا بھر میں واحد شخص تھے، جنھوں نے پینے کے پانی کے لیے ستیہ گرہ کیا تھا۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: