ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

حکومت کے خلاف انا ہزارے 30 جنوری سے رالیگن سدھی میں کریں گے آمرن انشن ، حامیوں سے کی یہ اپیل

سماجی کارکن انا ہزارے کا کہناہے کہ وہ سال 2018 سے سوامی ناتھن کمیشن (Swaminathan Commission) کی سفارشات لاگو کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے گزارش کررہے ہیں ، لیکن ان کی کسی بھی بات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

  • Share this:
حکومت کے خلاف انا ہزارے 30 جنوری سے رالیگن سدھی میں کریں گے آمرن انشن ، حامیوں سے کی یہ اپیل
حکومت کے خلاف انا ہزارے 30 جنوری سے رالیگن سدھی میں کریں آمرن انشن ، حامیوں سے کی یہ اپیل

ممبئی : ملک کی راجدھانی دہلی کی سرحد پر گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے زرعی قوانین کی مخالفت میں جاری کسان آندولن کے درمیان اب خبر آرہی ہے کہ سماجی کارکن انا ہزارے بھی مرکزی حکومت کے خلاف 30 جنوری سے آمرن انشن کرنے  جارہے ہیں ۔ انا ہزارے کا کہنا ہے کہ وہ سال 2018 سے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے گزارش کررہے ہیں ، لیکن ان کی کسی بھی بات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس رویہ سے ناراض ہوکر ہی اب انہوں نے 30 جنوری سے آمرن انشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتادیں کہ انا ہزارے کا یہ انشن رالیگن سدھی کے یادو بابا مندر میں ہوگا ۔


ذرائع کے مطابق انا ہزارے کو منانے کیلئے حکومت نے ابھی سے ہی کوششیں شروع کردی ہیں ۔ انا ہزارے کو آمرن انشن سے روکنے کی زراعت کے وزیر مملکت کیلاش چودھری کو ذمہ داری دی گئی ہے ۔ کیلاش چودھری آج رالیگن سدھی پہنچیں گے اور انا ہزار سے بات چیت کریں گے ۔


بتادیں کہ کیلاش چودھری سے پہلے مہاراشٹر اسمبلی کے سابق اسپیکر ہری بھاو باگڑے ، سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس ، بی جے پی لیڈر رادھا کرشن وکھے پاٹل اور احمد نگر سے رکن پارلیمنٹ سوجے پاٹل سمیت کئی دیگر لیڈران بھی انا ہزارے کو منانے کیلئے رالیگن سدھی جاچکے ہیں ۔ حالانکہ انا ہزارے کسی بھی قیمت پر اب پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔


بتایا جارہا ہے کہ انا ہزارے کے آمرن انشن کے پیش نظر دیویندر فڑنویس اور گریش مہاجن نے مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر سے بات چیت کرکے اس معاملہ میں ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے ۔ انا ہزارے کو یہ مسودہ دکھایا جائے گا ۔ اس کے بعد انا ہزارے اگر اس میں کوئی کمی ہوگی تو اس کو وزیر زراعت کو بھیجیں گے ۔ اس کے بعد اگر حکومت اس سے متفق ہوتی ہے تو شاید انا ہزارے اپنا انشن واپس لے سکتے ہیں ۔

ادھر انا ہزارے نے اپنے حامیوں سے گزارش کی ہے کہ آندولن میں کسی بھی طرح کا تشدد نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں ہوئے تشدد پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میں ہمیشہ تشدد سے پاک اور پرامن آندولن چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں میں انہوں نے کئی مرتبہ آندولن کیا ہے ۔ لوک پال آندولن میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوتے تھے ، لیکن کسی نے ایک پتھر نہیں اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ہمیں سکھایا ہے کہ امن کسی بھی آندولن کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 29, 2021 10:18 AM IST