உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy in Maharashtra: ’پہلے حجاب-پھر کتاب‘، بیڑ میں لگے بینر اور مالیگاوں میں نکلی ریلی، کرناٹک سے شروع تنازع پہنچا مہاراشٹر

     مہاراشٹر کے شہر بیڑ میں لگے ’پہلے حجاب۔پھر کتاب‘ کے بینرس۔

    مہاراشٹر کے شہر بیڑ میں لگے ’پہلے حجاب۔پھر کتاب‘ کے بینرس۔

    بیڑ کے مسلم نوجوان بینرز اور پوسٹروں کے ارد گرد جمع ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ملک ہے۔ اسے ایک ہونے دو۔ اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیاں منگل سوتر پہن کر آتی ہیں، سر پر سندور ڈالتی ہیں۔ لڑکے ماتھے پر تلک لگاتے ہیں۔ ہم اس پر کبھی سوال نہیں کرتے۔

    • Share this:
      بیڑ/مالیگاوں: کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ(Karnataka hijab controversy) چھڑ گیا ہے۔ ریاست میں اسکول کالج تین دن کے لیے بند ہیں۔ اس واقعہ کا اثر مہاراشٹرا (Hijab controversy in maharashtra) میں بھی نظر آرہا ہے۔ مہاراشٹر کے بیڑ اور مالیگاؤں(Beed & Malegaon) میں اس تنازعہ کو لے کر بینر اور مورچے نکالے گئے ہیں۔ بیڑ میں لگائے گئے بینرز اور پوسٹرز پر لکھا ہے، ’پہلے حجاب، پھر کتاب۔ کیونکہ ہر قیمتی چیز پردے میں ہوتی ہے۔‘ یہ بینر بیڑ شہر کے شیواجی مہاراج چوک، بشیر گنج چوک، راجوری ویس کے اطراف میں لگائے گئے ہیں۔ حجاب کتاب کا موازنہ کرنے والے یہ بینرز نہ صرف بیڑ بلکہ پورے مہاراشٹر میں موضوع بحث بن رہے ہیں۔ کرناٹک میں ہوئے واقعہ کے خلاف مالیگاؤں میں بھی مسلم نوجوانوں کی طرف سے ایک مورچہ نکالا گیا ہے۔

      اس طرح کرناٹک میں طالبات کے اسکول اور کالج میں برقعہ پہننے پر پابندی کے معاملے پر اب تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کرناٹک میں اب سیاسی پارٹیاں بھی اپنے اپنے انداز میں حق اور مخالفت میں کھڑی نظر آرہی ہیں۔ جہاں بی جے پی اسکولوں اور کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے برقعہ پہننے کی مخالفت میں کھڑی ہے، وہیں کانگریس برقعہ پہننے والی مسلم لڑکیوں کی حمایت کررہی ہے۔ اس درمیان، منگل (8 فروری) کو کچھ نوجوانوں نے ایک تعلیمی ادارے میں ترنگے کی جگہ بھگوا جھنڈا لہرایا۔ یہ الزام کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے لگایا ہے۔

      مسلم نوجوانوں کی دلیل - بی جے پی کا یہ آنے والے الیکشن کے پیش نظر کھیلا گیا داؤ ہے
      مسلم نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مسلمان خواتین اور لڑکیاں سینکڑوں سالوں سے حجاب کا استعمال کر رہی ہیں۔ ابھی کیا ہوا کہ حجاب کے خلاف فتویٰ نکلنے لگا؟ کیا ہندوستان کو پاکستان بنانا ہے؟ کون کیا پہننا چاہتا ہے، انہیں فیصلہ کرنے دیں؟ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی جان بوجھ کر یہ تنازعہ کھڑا کر رہی ہے۔

      نیت نیک رکھو، ہندوستان کو ایک رکھو
      بیڑ کے مسلم نوجوان بینرز اور پوسٹروں کے ارد گرد جمع ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ملک ہے۔ اسے ایک ہونے دو۔ اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیاں منگل سوتر پہن کر آتی ہیں، سر پر سندور ڈالتی ہیں۔ لڑکے ماتھے پر تلک لگاتے ہیں۔ ہم اس پر کبھی سوال نہیں کرتے۔ ہر انسان اپنے ذوق کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ ہندوستان تمام مذاہب کی برابری کا ملک ہے۔ لیکن حال ہی میں عدم برداشت کون پیدا کر رہا ہے؟ مالیگاؤں میں بھی مسلم نوجوانوں نے کرناٹک میں حجاب واقعہ کے خلاف مورچہ نکالا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: