ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پال گھر سانحہ پر ادھو ٹھاکرے نےکہا- یہ فرقہ وارانہ معاملہ نہیں، افواہ پھیلانے والوں پر ہوگی کارروائی

مہاراشٹر(Maharashtra) کے پال گھر (Palghar) میں 16 اپریل کی رات گجرات کے سورت جارہے ممبئی میں کاندیولی کے رہنے والے تین لوگوں کا بھیڑ نے قتل کردیا تھا۔

  • Share this:
پال گھر سانحہ پر ادھو ٹھاکرے نےکہا- یہ فرقہ وارانہ معاملہ نہیں، افواہ پھیلانے والوں پر ہوگی کارروائی
مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کی پریس کانفرنس

ممبئی: مہاراشٹر (Maharashtra) کے پال گھر (Palghar) میں دو سادھووں کےقتل کے سانحہ پر ریاستی حکومت پر تنقیدکی جارہی ہے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے (Uddhav Thackeray) نے پیرکو پریس کانفرنس کرکے اس حادثہ سے متعلق اطلاع دی۔ انہوں نےکہا کہ یہ فرقہ وارانہ حادثہ نہیں ہے۔ حکومت کسی بھی قصوروار کو بخشےگی نہیں۔ اس درمیان اگرکوئی شخص سوشل میڈیا پر اس حادثہ سے متعلق افواہ پھیلانے اور اسے بھڑکانے کی کوشش کرے گا تو اس پر سخت کارروائی کی جائےگی۔


وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی کی بات


مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پیرکو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سےگزارش کی کہ وہ ان لوگوں کےخلاف کارروائی کریں، جو پال گھر ضلع میں بھیڑ کے ذریعہ تین لوگوں کا پیٹ پیٹ کرکے قتل کئے جانے کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے 16 اپریل کو ہوئے اس حادثے میں پہلے ہی اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات دے دیئے ہیں۔


سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی

ریاست کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے معاملے کو کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ نظریے سے دیکھے جانے کے خلاف سخت وارننگ دی تھی کیونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ مارے گئے تین لوگوں میں سے دو سادھو تھے۔ ادھو ٹھاکرے نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پیرکو انہیں امت شاہ کا فون آیا تھا اور انہوں نے خود معاملے میں کسی طرح کے فرقہ وارانہ پہلو کے نہیں ہونے کی بات کہی تھی۔ ادھو ٹھاکرے نےکہا کہ ’میں نے امت شاہ سے ان لوگوں پر کارروائی کرنے کی گزارش کی جو پال گھرقتل معاملےکو فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں، جو حقائق کی بنیاد پر غلط ہے۔ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میری حکومت یقینی طور پر سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے جارہی ہے’۔

وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پہلےکہا تھا کہ تین لوگوں کی بھیڑ کے ذریعہ قتل کے معاملے میں شامل لوگوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔
وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پہلےکہا تھا کہ تین لوگوں کی بھیڑ کے ذریعہ قتل کے معاملے میں شامل لوگوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔


کوئی فرقہ وارانہ پس منظر نہیں

وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پہلےکہا تھا کہ تین لوگوں کی بھیڑ کے ذریعہ قتل کے معاملے میں شامل لوگوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔ انہوں نےکہا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (سی آئی ڈی) اتل چندر کلکرنی بھیڑ کے ذریعہ قتل کے اس معاملےکی جانچ کی قیادت کریں گے۔ ادھو ٹھاکرے نےکہا کہ بھیڑ کے ذریعہ تین لوگوں کا پیٹ پیٹ کرقتل کرنےکا معاملہ افواہ کا لگتا ہے اور اس حادثہ کا کوئی فرقہ وارانہ پس منظر نہیں ہے۔

ادھو ٹھاکرے نےکہا، ’اطلاعات کے مطابق بندکے دوران سادھو گجرات کے سورت جارہے تھے۔ دادر اور نگرحویلی پولیس نے انہیں روکا اور واپس مہاراشٹر بھیج دیا’۔ وزیراعلیٰ نےکہا کہ انہوں نےگڑھ چندہلی گاوں سے گزرنے والے اندرونی راستےکو منتخب کیا، جو پال گھر ضلع سے 110 کلو میٹر دور ہے۔ یہاں مقامی لوگوں نے انہیں بچہ چرانے والے گروہ کا رکن سمجھ کر روکا۔ انہوں نےکہا کہ بھیڑ کے ذریعہ پولیس کی گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔ انہوں نےکہا کہ جس گاوں میں حملہ ہوا وہ دادر اور نگرحویلی کی سرحد سے محض کچھ کلو میٹر دور ہے۔انہوں نےکہا، ’پانچ اہم ملزمین سمیت پال گھر سے اب تک 110 سے زیادہ لوگوں کو گرفتارکیا جاچکا ہے۔ فرائض میں لاپرواہی برتنے پر دو پولیس والوں کو معطل کیا گیا ہے’۔ ادھو ٹھاکرے نےکہا کہ کل ملزمین میں سے 9 نابالغ ہیں اور انہیں ریمانڈ ہوم میں بھیج دیا گیا ہے۔
First published: Apr 21, 2020 12:03 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading