ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر : ادھو ٹھاکرے نے فڑنویس سرکار کے حکم پر لگائی روک ، ریاست میں نہیں بنے گا حراستی کیمپ

وزارت داخلہ کی اجازت ملنے کے بعد فڑنویس حکومت نے مہاراشٹر میں حراستی کیمپ بنانے کا حکم دیا تھا ، لیکن اب ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا ہے کہ ریاست میں کوئی حراستی سینٹر نہیں بنایا جائے گا ۔

  • Share this:
مہاراشٹر : ادھو ٹھاکرے نے فڑنویس سرکار کے حکم پر لگائی روک ، ریاست میں نہیں بنے گا حراستی کیمپ
ادھو ٹھاکرے نے فڑنویس سرکار کے حکم پر لگائی روک ، مہاراشٹر میں نہیں بنے گا حراستی کیمپ ۔ فائل فوٹو ۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل احتجاج ہورہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیاں بھی متحد نظر آرہی ہیں ۔ اسی درمیان مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے اہم فیصلہ کیا ہے ۔ دراصل وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست میں حراستی کیمپ بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر اعلی نے 23 دسمبر کو مسلم برادری کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہیں یہ یقین دہانی کرائی ۔ خیال رہے کہ غیر قانونی طور پر ہندوستان میں رہ رہے لوگوں کیلئے حراستی کیمپ بنانے کی بات ہورہی تھی ۔


وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے حکم پر روک لگاتے ہوئے مسلم نمائندہ وفد کے اراکین کو یہ یقین دہانی کرائی ۔ بتادیں کہ وزارت داخلہ کی اجازت ملنے کے بعد فڑنویس حکومت نے مہاراشٹر میں حراستی کیمپ بنانے کا حکم دیا تھا ، لیکن اب ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا ہے کہ ریاست میں کوئی حراستی سینٹر نہیں بنایا جائے گا ۔


شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پر جاری ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ ملک کے الگ الگ مختلف حصوں میں مسلسل اس کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں ۔ اس معاملہ پر اپوزیشن پارٹیاں بھی متحد ہونے لگی ہیں ۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 23 دسمبر کو کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں مہاتما گاندھی کے سمادھی استھل راج گھاٹ پر پرامن احتجاج کیا گیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی ، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈر موجود تھے ۔


سی اے اے اور این آر سی پر ملک کی راجدھانی دہلی سمیت کئی حصوں میں پرتشدد احتجاج بھی ہوئے ۔ اترپردیش میں اس قانون کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا ۔ ریاست کے کئی اضلاع میں مظاہرین نے پولیس چوکی تک کو آگ کے حوالے کردیا ۔ سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو بھی نذرآتش کیا گیا اور پولیس پر پتھراو کے واقعات بھی سامنے آئے ۔ وہیں دہلی کے جامعہ نگر اور جعفر آباد – سیلم پور علاقوں میں بھی پرتشدد احتجاج ہوئے ۔
First published: Dec 24, 2019 03:57 PM IST