صرف لفظ 'جہاد' کےاستعمال پرکسی شخص کو دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا: عدالت

اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کے لئے متاثرکرنے کے ملزم تھے۔

Jun 20, 2019 09:11 PM IST | Updated on: Jun 20, 2019 09:11 PM IST
صرف لفظ 'جہاد' کےاستعمال پرکسی شخص کو دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا: عدالت

جج نےکہا کہ 'جہاد' عربی کا لفظ ہے، جس کا مطلب جدوجہد کرنا ہے۔ علامتی تصویر۔

مہاراشٹرکی ایک عدالت نے نے دہشت گردی کے ملزمین کوبری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض لفظ 'جہاد' کا استعمال کرنے کو لےکرکسی شخص کودہشت گرد نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اکولا واقع عدالت کے خصوصی جج اے ایس جادھونےغیرقانونی سرگرمیاں روک تھام قانون (یواے پی اے) اسلحہ ایکٹ اوربامبے پولیس ایکٹ کے تحت تین ملزمین کے خلاف ایک معاملے میں یہ تبصرہ کیا۔

اکولا کے پساد علاقے میں 25 ستمبر2015 کوعیدالاضحیٰ کے موقع پرایک مسجد کے باہر پولیس اہلکاروں پرحملے کے بعد عبدالرزاق (24)، شعیب خان (24) اورسلیم ملک (26) پر آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ درج کیس کے مطابق عبدالرزاق مسجد پہنچا اورایک چاقونکال کراس نے ڈیوٹی پرموجود دو پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا تھا۔ عبدالرزاق نے حملے سے پہلے جہاد لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بیف پرپابندی کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کومارڈالے گا۔

Loading...

لفظ 'جہاد' کے استعمال پردہشت گرد قراردینا ٹھیک نہیں

 دہشت گردی مخالف دستہ (اے ٹی ایس) نے دعوی کیا کہ یہ لوگ مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کے لئے متاثرکرنے کےملزم تھے۔ جسٹس اے ایس جادھو نے معاملے میں سماعت کرتےہوئےکہا 'یہ معلوم ہوتا ہےکہ ملزم عبدالرزاق نےگئوکشی پرپابندی کولےکرتشدد کے ذریعہ حکومت اورکچھ ہندوتنظیموں کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہرکی'۔ انہوں نے کہا 'بے شک اس نے'جہاد' لفظ کا استعمال کیا، لیکن اس نتیجے پرپہنچنا ٹھیک نہیں ہوگا کہ محض 'جہاد' لفظ کا استعمال کرنے پراسے دہشت گرد قراردینا چاہئے'۔

Loading...