உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر: لکھنو سے ممبئی جارہی ٹرین میں لڑکی کی اجتماعی آبروریزی، 4 ملزم گرفتار

    مہاراشٹر: لکھنو سے ممبئی جارہی ٹرین میں لڑکی کی اجتماعی آبروریزی، 4 ملزم گرفتار

    مہاراشٹر: لکھنو سے ممبئی جارہی ٹرین میں لڑکی کی اجتماعی آبروریزی، 4 ملزم گرفتار

    Gang Rape in Pushpak Express Train: اس معاملے میں اب تک چار ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ باقی کی تلاش جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرین میں پہلے لڑکی کا سامان لوٹنے کی کوشش کی گئی، پھر ان لٹیروں نے اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔

    • Share this:
      ممبئی: مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی میں چلتی ٹرین میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی (Gang Rape) کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون لکھنو (Lucknow) سے ممبئی (Mumbai) جانے والی پشپک ایکسپریس ٹرین میں سوار تھی۔ اس معاملے میں اب تک چار ملزمین کو گرفتارکیا گیا ہے۔ باقی کی تلاش جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرین میں پہلے خاتون کا سامان لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد خاتون کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی۔

      میڈیا رپورٹ کے مطابق، اگت پوری اسٹیشن سے تقریباً 8 لوگ ایک سلیپر کوچ میں سوار ہوئے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان سب نے سب سے پہلے 15 سے 20 مسافروں سے لوٹ پاٹ کی۔ اس کے بعد ٹرین میں سفر کر رہی ایک 20 سال کی لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔

      ممبئی جی آر پی مطابق، کلیان ریلوے پولیس اسٹیشن پر اس حادثہ کو لے کر معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ریلوے پولیس نے بتایا کہ ملزم لکھنو - ممبئی پشپک ایکسپریس میں اگت پوری سے سلیپر کے کوچ نمبر ڈی-2 میں سوار ہوئے تھے۔ ریلوے پولیس نے اس معاملے میں IPC کی 395, 397, 376(D), 354, 354(B) کے تحت اور انڈین ریلوے ایکٹ 37 اور 153 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

      پورے ملک میں آبروریزی کے حادثات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دو دن پہلے تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں 30 سال کے ایک شخص کو اپنی دو بچیوں سے مبینہ طور پر آبروریزی کرنے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے ایک سینئر پولیس افسر نے درج معاملے کی بنیاد پر بتایا کہ ملزم دو اکتوبر کو گھر کے باہر کھیل رہیں 8 اور 10 سال کی ان لڑکیوں کو چاکلیٹ دلانے کی لالچ دے کر اپنے گھر لے گیا، جہاں اس نے یہ یہ گھناونا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں نے اپنے گھر والوں کو حادثہ کی جانکاری دی، جس کے بعد انہوں نے شکایت درج کرائی۔ بچوں کے جنسی جرائم تحفظ ایکٹ اور آئی پی سی کے متعلقہ سیکشن کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: