ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

 حکومت کا خسارے کا بجٹ :اقلیتی بجٹ میں 50 کروڑ کا اضافہ، پاورلوم صنعت کو نظرانداز کرنے پر ناراضگی کا اظہار

مہاراشٹر اسمبلی میں رواں سال 2021-22 کیلئے ریاست مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے پانچ سو 90 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں اور ریاستی سطح پراقلیتی طبقے کی مالی و معاشی معاونت کیلئے قائم مولانا آذاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن دوسو کروڑ کا کارپس فنڈ دیا ہے۔

  • Share this:
 حکومت کا خسارے کا بجٹ :اقلیتی بجٹ میں 50 کروڑ کا اضافہ، پاورلوم صنعت کو نظرانداز کرنے پر ناراضگی کا اظہار
 حکومت کا خسارے کا بجٹ :اقلیتی بجٹ میں 50 کروڑ کا اضافہ

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں رواں سال 2021-22 کیلئے ریاست مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے پانچ سو 90 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں اور ریاستی سطح پراقلیتی طبقے کی مالی و معاشی معاونت کیلئے قائم مولانا آذاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن دوسو کروڑ کا کارپس فنڈ دیا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں اقلیتی امور کے کابینی وزیر نواب ملک کے نمائندے کو بتایا کہ کورونا کی وجہ سے ریاست کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے اس کے باوجود اقلیتی فلاح کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے اس سال 50 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ رواں سال کے لئے پانچ سو 90 کروڑ کے بجٹ کے علاوہ دیگر اقلیتی فلاح کی اسکیموں کےلئے ریاستی حکومت سے اضافی بجٹ کی مانگ کی جائے گی۔


بجٹ میں منادر کی تزئین کاری کے ساتھ درگاہ کو بھی فنڈ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ریاست کےسانگلی ضلع کی حضرت خواجہ درگاہ کی تزئین کاری کیلئے بھی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال بجٹ میں اضافے کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی میں ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے پروفیسر عبدالشعبان نے بجٹ پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ فڑنویس حکومت میں اقلیتوں کی فلاح بہبود کیلئے کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوپائی تھی۔


اس سال مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے معاشی بحران اور کووڈ وباء کے ایام کے باوجود اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کا خیال رکھا اور اقلیتی بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے اس سال 50 کروڑ کا اضافہ کیا، یہ خوش آئند بات ہے۔ اب ریاستی حکومت کو چاہئے کہ 590 کروڑ کے بجٹ میں اقلیتوں فلاح و بہبود کیلئے بہترین طریقوں سے اسکیموں کو ترتیب دیں اور نافذ کریں۔ بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پاورلوم انڈسٹری کے متعلق کوئی راحت نہیں ملی اور نا ہی پاور انڈسٹری کو بجلی بل میں رعایت کا کچھ اعلان کیا ہے۔ ریاست کے بھیونڈی مالیگاؤں اور دیگر شہروں میں پاورلوم سے مسلم طبقہ بڑی تعداد میں وابستہ ہے اس کے باوجود حکومت نے پاورلوم انڈسٹری کو نظر انداز کیا ہے۔ اقلیتی طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے پانچ سو 90 کروڑ کا بجٹ کم ہے۔


کووڈ-19 کے دور میں سب سے زیادہ اقلیتی طبقہ متاثر ہوا ہے۔ کورونا کے دور میں اقلیت بالخصوص مسلم طبقہ روزگار کے معاملے میں کافی متاثر ہوا ہے۔ آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی نے اقلیتی بجٹ میں اضافے کا خیرمقدم کیا ہے۔ محمود دریابادی نے کہا کہ کورونا کے دور میں اقلیت بالخصوص مسلمان روزگار و تعلیم کے میدان میں زیادہ متاثر ہوا ہے۔ حکومت کو ان دونوں شعبوں میں اقلیت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے مزید رقم خرچ کرنی چاہئے۔ مولانا آذاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے حکومت کو روزگارکیلئے قرض کی فراہمی اور تعلیمی اسکالرشپ پر دھیان دینے اور اس کیلئے سپلیمنٹری بجٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
کانگریس لیڈر اور سابق ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور عارف نسیم خان نے بجٹ پراطمنان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تمام طبقات کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اس بجٹ میں مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے لئے 200 کروڑ روپئے مختص کیا گیا ہے، جو اقلیتوں کی ضروریات کے پیشِ نظر کسی طورکافی نہیں ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ اقلیتوں سے منسلک تمام اسکیموں پر ان کے اخراجات اور ضروریات کے پیشِ نظر بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے بجٹ کی بات کی جائے، تو اس مرتبہ مہاوکاس اگھاڑی سرکار نے اقلیتی بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کا بجٹ اس طرح کا ہے۔ 17-2016میں 450 کروڑ، 18-2017 میں 350 کروڑ، 19-2018 میں 464 کروڑ 20-2019 میں 550 کروڑ اور 21-2020 میں 590 کروڑ۔
بجٹ کا تجزیہ کرنے والی تنظیم احتساب تنظیم سے وابستہ پروفیسر ریحان کاکہنا ہے کہ اقلیتی طبقے کی فلاح بہبود کیلئے بجٹ تومختص کیاجاتا ہے، لیکن ہر سال تقریباً ایک تہائی بجٹ استعمال ہی نہیں ہو پاتا ہے۔ 30 فیصد سے زیادہ اقلیتی بجٹ کی رقم استعمال نہ ہوکراگلے بجٹ میں ضم ہو جاتی ہے۔حکومت کو بجٹ کے ساتھ فلاحی اسکیموں کے نفاذ اوراقلیتی طبقے کو اس کافائدہ بہم پیچانے کیلئے بجٹ کی زیادہ سے زیادہ رقم کے استعمال کو یقینی بنانا چاہئے۔
مہاراشٹر قانون اسمبلی میں کورونا وبا کے درمیان مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کیا گیا۔ ریاست مہاراشٹر کے سالانہ بجٹ پر بھی کورونا وبا کا اثر دکھائی دیا۔ سال 22-2021 کیلئے اجیت پوار نے محصولات کے خسارے کے ساتھ دس ہزار دو سو 26 کروڑ روپئے بجٹ پیش کیا۔ جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے محصولات کی وصولی کا تخمینہ 3 لاکھ 68 ہزار 9 سو 87 کروڑ روپئے بتایا گیا ہے۔ محصولات کے اخراجات کا تخمینہ 3 لاکھ 79 کروڑ دوسو تیرہ کروڑ بتایا گیا ہے۔ مجموعی بجٹ 4,84,118.19 کروڑکا خسارہ بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب اس بجٹ میں صحتِ عامہ نے معاملات پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ بجٹ میں پٹرول ڈیژل کی قیمت پر کوئی بھی رعایت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ کسی قسم کا کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر پیش ہونے والے بجٹ میں نظر ریاستی حکومت نے خواتین کیلئے بھی اعلانات کئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 09, 2021 11:59 PM IST