உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra Political Crisis: کیا اقلیت میں آجائے گی ادھو سرکار؟ بی جے پی نے کیا یہ بڑا دعوی

    Maharashtra Political Crisis: کیا اقلیت میں آجائے گی ادھو سرکار؟ بی جے پی نے کیا یہ بڑا دعوی  (File Photo)

    Maharashtra Political Crisis: کیا اقلیت میں آجائے گی ادھو سرکار؟ بی جے پی نے کیا یہ بڑا دعوی (File Photo)

    Uddhav Thackeray Government: مہاراشٹر کے کابینہ وزیر اور شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے کے قدم سے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی اتحادی سرکار پر خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔

    • Share this:
      ممبئی : مہاراشٹر کے کابینہ وزیر اور شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے کے قدم سے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی اتحادی سرکار پر خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ اس درمیان بی جے پی نے بڑا دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس 134 ووٹ ہیں ۔ اس بیان سے شیوسینا ، کانگریس اور این سی پی اتحاد کی سرکار کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔

      این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے 22 ممبران اسمبلی ، جن میں شیوسینا کے 21 اور ایک آزاد ایم ایل اے شامل ہیں، گجرات کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ دراصل مہاراشٹر اسبملی میں کل 288 سیٹیں ہیں ۔ حالانکہ ایک رکن کی موت ہونے سے یہ ہندسہ 287 ہوگیا ہے ۔ یعنی اب اسمبلی میں اکثریت کیلئے 144 ووٹ چاہئے ۔ مہاوکاس اگھاڑی سرکار میں این سی پی ، کانگریس اور شیوسینا کے کل 152 ممبران اسمبلی ہیں ۔ اگر یہ ممبران بغاوت کرتے ہیں تو وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی سرکار پر آنچ آسکتی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ادھو حکومت پر بحران کے درمیان ترجمان سنجے راوت کا بڑا دعویٰ


      ادھر بی جے پی لیڈر سدھیر مونگنٹی ویر نے پیر کو کہا تھا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کیلئے ان کے پاس 134 ووٹ ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں کچھ بھی خفیہ نہیں ہے کہ شیوسینا کے کئی لیڈر سرکار سے خوش نہیں ہیں ۔ پیر کو ایم ایل سی الیکشن میں بی جے پی 134 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جس کا تکنیکی طور پر مطلب ہے کہ سرکار بنانے کا دعوی کرنے کیلئے ہمارے پاس 11 وٹ کم ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن کا بڑا فیصلہ، یشونت سنہا ہوں گے اپوزیشن کے امیدوار


      مہاراشٹر بی جے پی صدر چندرکانت پاٹل نے کہا کہ اگر بی جے پی کو سرکار بنانے کیلئے ایکناتھ شندے سے 'کوئی تجویز' ملتی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر غور کریں گے۔ پاٹل نے دعوی کیا کہ وہ ایکناتھ شندے اور شیوسینا کے دیگر ممبران اسمبلی کے ساتھ سورت جانے کے قدم سے واقف نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے اس فیصلہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔

      ایکناتھ شندے پہلے ہمارے ساتھ کام کرچکے ہیں، اس لئے اگر ان کی جانب سے ہمیں سرکار بنانے کی کوئی تجویز ملتی ہے تو ہم ضرور اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: