உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra Political Crisis: مہاراشٹر کے سیاسی گھمسان میں ڈپٹی اسپیکر کی انٹری، جانئے کیوں نبھائیں گے اہم رول

    Maharashtra Political Crisis: مہاراشٹر کے سیاسی گھمسان میں ڈپٹی اسپیکر کی انٹری، جانئے کیوں نبھائیں گے اہم رول ۔ فائل فوٹو ۔

    Maharashtra Political Crisis: مہاراشٹر کے سیاسی گھمسان میں ڈپٹی اسپیکر کی انٹری، جانئے کیوں نبھائیں گے اہم رول ۔ فائل فوٹو ۔

    Maharashtra Political Crisis, Uddhav vs Eknath : مہاراشٹر میں جاری سیاسی گھمسان کے درمیان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نرہری جھروال سرخیوں میں آگئے ہیں ۔ دراصل اسمبلی اسپیکر کا انتخاب نہیں ہونے کی وجہ سے ڈپٹی اسپیکر کا رول اہم ہوگیا ہے ۔ یہاں 2020 سے اسپیکر کا انتخاب نہیں ہوا ہے ، ایسے میں بحران میں گھری سرکار کو بچانے میں ڈپٹی اسپیکر نرہری جھروال اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔

    • Share this:
      ممبئی : مہاراشٹر میں جاری سیاسی گھمسان کے درمیان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نرہری جھروال سرخیوں میں آگئے ہیں ۔ دراصل اسمبلی اسپیکر کا انتخاب نہیں ہونے کی وجہ سے ڈپٹی اسپیکر کا رول اہم ہوگیا ہے ۔ یہاں 2020 سے اسپیکر کا انتخاب نہیں ہوا ہے ، ایسے میں بحران میں گھری سرکار کو بچانے میں ڈپٹی اسپیکر نرہری جھروال اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ ڈپٹی اسپیکر نے 23 جون کو یہ اعلان کردیا ہے کہ انہوں نے باغی ممبر اسمبلی اور سرکار میں وزیر ایکناتھ شندے کی جگہ اجے چودھری کو ایوان میں شیوسینا کے گروپ لیڈر کے طور پر مقرر کرنے کو منظوری دیدی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ہم لڑیں گے،فلور ٹیسٹ سے طے ہوگا کس کے پاس اکثریت ہے: شرد پوار


      شیوسینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے ، دیگر ممبران اسمبلی کے ساتھ مہاراشٹر سے باہر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس 40 سے زیادہ ممبران اسمبلی کی حمایت ہے ۔ اس سے شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار بحران میں آگئی ہے ۔ 2019 میں جب یہ سرکار بنی تھی، تب کانگریس کے نانا پٹولے مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر بنے تھے، لیکن جب 2020 میں انہیں ریاستی کانگریس سربراہ کی ذمہ داری گئی تو انہوں نے اسپیکر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا ۔ تب سے کانگریس پارٹی نے نئے اسپیکر کا انتخاب نہیں کیا ہے، جو اب بڑی مصیبت بن سکتا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سنجے راوت کے بیان کے بعد پرتھوی راج چوہان نے کہا: CM ٹھاکرے 'یوٹرن' لیں تو حیرانی ہوگی


      کیسے نبھائیں گے اہم رول؟

      ایکناتھ شندے نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس 40 سے زیادہ ممبران اسمبلی کی حمایت ہے ۔ یہ تعداد دل بدل مخالف قانون کو مات دینے کیلئے ضروری دوتہائی کی لازمیت کو پورا کرتی ہے ۔ ایسے میں اگر شندے کے مطالبہ کو منظور نہیں کیا جاتا ہے تو شندے ڈپٹی اسپیکر سے مطالبہ کریں گے کہ ان کے گروپ کو اصلی شیوسینا کے طور پر تسلیم کیا جائے گا ۔

      اگر ایسا ہوجاتا ہے تو شیوسینا دو حصوں میں بٹ جائے گی ۔ ابھی سوال ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کیا قدم اٹھائیں گے ۔ ان کے سامنے کیا چیلنجز آتے ہیں وہ کیا فیصلہ لیتے ہیں، یہ دیکھنے والی بات ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: