உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شیوسینا انتخابی نشان کس کا؟ ادھو ٹھاکرے گروپ نے دستاویزات جمع کرنے کیلئے EC سے مانگے چار ہفتے

    شیوسینا انتخابی نشان کس کا؟ ادھو ٹھاکرے گروپ نے دستاویزات جمع کرنے کیلئے EC سے مانگے چار ہفتے ۔ فائل فوٹو ۔

    شیوسینا انتخابی نشان کس کا؟ ادھو ٹھاکرے گروپ نے دستاویزات جمع کرنے کیلئے EC سے مانگے چار ہفتے ۔ فائل فوٹو ۔

    Shiv Sena Poll Symbol: شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ نے الیکشن کمیشن سے پارٹی کے انتخابی نشان پر اپنے دعوی کی حمایت میں دستاویزات جمع کرانے کیلئے چار ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ پارٹی لیڈر نے پیر کو یہ جانکاری دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Maharashtra | Mumbai
    • Share this:
      ممبئی : شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ نے الیکشن کمیشن سے پارٹی کے انتخابی نشان پر اپنے دعوی کی حمایت میں دستاویزات جمع کرانے کیلئے چار ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ پارٹی لیڈر نے پیر کو یہ جانکاری دی۔ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن نے شیو سینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ اور وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے گروپ سے کہا تھا کہ وہ 8 اگست تک پارٹی کے انتخابی نشان 'تیر اور دھنش' پر اپنے اپنے دعووں کی حمایت میں دستاویزات جمع کرائیں ۔

      ٹھاکرے کے وفادار انیل دیسائی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے چار ہفتے کا وقت مانگا ہے، کیونکہ باغی ایم ایل اے کی نااہلی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے۔ درخواست پر پہلے فیصلہ ہونے دیں، اس معاملہ کا فیصلہ بعد میں ہو سکتا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: مشرقی افغانستان میں بم دھماکہ، مارا گیا تحریک طالبان پاکستان کا ٹاپ کمانڈر


      قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اگست کو الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ ایکناتھ شندے گروپ کی درخواست پر کارروائی نہ کرے، جس میں شیو سینا کو حقیقی شیوسینا ماننے اور پارٹی کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کے ایل راہل اور وراٹ کوہلی کی ٹیم میں واپسی، روہت شرما ہی سنبھالیں گے کمان


      دوسری جانب مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے 9 اگست کو اپنی 40 دن پرانی کابینہ میں توسیع کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے پیر کو یہ جانکاری دی۔ شندے نے مراٹھواڑہ کے علاقے ناندیڑ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کابینہ کی توسیع 9 اگست کو متوقع ہے۔ درجنوں وزراء حلف لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ توسیع کا اگلا دور بعد میں ہوگا۔

      شیوسینا میں بغاوت کی وجہ سے ٹھاکرے کے استعفیٰ دینے کے بعد ایکناتھ شندے اور دیویندر فڑنویس نے 30 جون کو وزیر اعلی اور نائب وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ شندے ۔ فڑنویس حکومت نے 4 جولائی کو مہاراشٹر اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: