உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی آج، عوام پر دونوں نے ایسا چھوڑا تاثر

    مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی آج، عوام پر دونوں نے ایسا چھوڑا تاثر

    مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی آج، عوام پر دونوں نے ایسا چھوڑا تاثر

    انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے میں مہاتما گاندھی کی جانب سے چلائے گئے ستیہ گرہ اور عوامی آندولنوں کا بڑا رول بتایا جاتا ہے، وہیں، ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں لال بہادر شاستری کا بھی اہم تعاون رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      آج 2 اکتوبر بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 153 ویں جینتی ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان کے دوسرے وزیراعظم لال بہادر شاستری کی 118ویں جینتی بھی ملک منا رہا ہے۔ دونوں عظیم ہستیوں نے اپنے کاموں اور نظریات سے ملک اور دنیا بھرکی عوام پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔

      انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے میں مہاتما گاندھی کی جانب سے چلائے گئے ستیہ گرہ اور عوامی آندولنوں کا بڑا رول بتایا جاتا ہے، وہیں، ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں لال بہادر شاستری کا بھی اہم تعاون رہا ہے۔ مہاتما گاندھی ہمیشہ لوگوں کو سچ اور عدم تشدد کے راستے پر چلنے کا سبق دیتے تھے اور لال بہادر شاستری کی امیج بھی سب سے ایماندار لیڈر کی ہے۔

      مہاتما گاندھی کی جینتی 2 اکتوبر کو ان کی یاد میں یوم بین الاقوامی عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 جون 2007 کو 2 اکتوبر کی تاریخ بین الاقوامی یوم عدم تشدد کے طو رپر منانے کی تجویز پاس کی تھی۔

      مہاتما گاندھی کی پیدائش اور افراد خاندان کا پس منظر
      2اکتوبر 1869 کو گجرات کے پوربندر میں ایک موڑھ ویشیہ خاندان میں مہاتما گاندھی کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کا پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔ برطانوی اقتدار کے دوران ان کے والد کرم چند پوربندر اسٹیٹ کے دیوان تھے اور والدہ پُتلی بائی ایک ہاوس وائف تھیں۔ دادا اوتا گاندھی نے دو شادیاں کی تھیں اور والد کرم چند گاندھی نے چار شادیاں کی تھیں۔ ایک بہن اور تین بھائیوں میں موہن داس سب سے چھوٹے تھے۔ مہاتما گاندھی نے اپنی سوانح حیات ’ستیہ کے پریوگ‘ (سچ کا استعمال) میں اپنے خاندان کا تعارف دیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا خاندان پہلے پنساری کا کاروبار کرتا تھا۔

      دادا سے لے کر پچھلی تین پیڑھیاں دیوان گیری کرتی رہیں۔ سیاسی مسائل کی وجہ سے خاندان کو پوربندر چھوڑ کر سابقہ جوناگڑھ ریاست میں آنا پڑا تھا۔ مہاتما گاندھی کے والد کرم چند گاندھی نے پوربندر کی دیوانگری چھوڑنے کے بعد راجستھان کورٹ میں کام کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے راج کوٹ اور وانکانیر میں دیوان کا کام کیا تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں انہیں راج کوٹ دربار میں پنشن ملتی تھی۔

      بچپن میں ہوگئی تھی شادی
      موہن داس جب محض 13 سال کے تھے تب 14 سالہ کستوربا گاندھی سے ان کی شادی کرادی گئی تھی۔ ان کی شادی کے ساتھ ہی خاندان کے کچھ اور بھائیوں اور بہنوں کی بھی شادیاں ہوئی تھیں۔ مہاتما گاندھی کے چار بیٹے ہری لال، منی لال، رام داس اور دیوداس تھے۔

      لال بہادر شادتری کی پیدائش اور خاندان کا پس منظر
      2 اکتوبر 1904 کو اتر پردیش کے مغل سرائے (موجودہ دین دیال اپادھیائے نگر) میں ایک کائستھ خاندان میں لال بہادر شاستری کی پیدائش ہوئی۔ ان کے والد شاردا پرساد استاد تھے لیکن انہیں منشی جی کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں محکمہ ریونیو میں بطور کلرک بھی کام کیا۔ ماں رام دولاری ہاوس وائف تھی۔ شاستری جی کو خاندان کے سبھی لوگ پیار سے ننھے پکارتے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      آج ملک بھر میں گاندھی جینتی کا اہتمام، جانیے کیا ہے تاریخ اور اہمیت؟

      یہ بھی پڑھیں:
      عالمی یوم بزرگ پر بھوپال میں بزرگ خواتین نے خالی تھالی اور سوکھی روٹی لے کر کیا احتجاج

      ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب شاستری ڈیڑھ سال کے تھے۔ خاندان مشکل میں تھا۔ ماں رام دولاری نے اپنے والد یعنی شاستری کے نانا ہزاری لال کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ شاستری کی بچپن کی تعلیم ننھیال مرزا پور میں ہوئی۔ بعد میں انہوں نے ہریش چندر ہائی اسکول اور کاشی ودیا پیٹھ سے تعلیم حاصل کی۔ شاستری کا خطاب ملنے کے بعد انہوں نے اپنا کنیت سریواستو ہٹا دیا تھا۔ 1928 میں شاستری کی شادی مرزا پور کی رہنے والی للیتا سے ہوئی۔ ان کے چھ بچے تھے، دو بیٹیاں اور چار بیٹے۔ لال بہادر شاستری کے چار بیٹوں میں سے انیل شاستری کانگریس لیڈر ہیں اور سنیل شاستری بی جے پی لیڈر ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: